جنتا دل یونائیٹڈ کے لیڈر للن سنگھ
نئی دہلی : مرکزی وزیر اور نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ کے لیڈر للن سنگھ کے ایک بیان نے بہار میں سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ مرکزی وزیر للن سنگھ نے کہا ہے کہ اقلیتی برادری جے ڈی یو کو ووٹ نہیں دیتی ہے، لیکن وزیراعلیٰ نتیش کمار سب کے لیے کام کرتے ہیں۔ للن سنگھ نے مزید کہا، ‘اس وہم میں مت رہنا کہ پہلے نہیں مگر اب دے رہے ہیں۔ یہ لوگ (مسلمان) ووٹ ان کو دیتے ہیں جن کے دور حکومت میں مدارس کے اساتذہ کی تنخواہ تین سے چار ہزار روپے تھی۔ جبکہ آج انہیں ساتویں پے کمیشن کی تنخواہ مل رہی ہے۔
نتیش کمار کا کوئی مذہب نہیں: چودھری
جے ڈی یو کے وزیر اشوک چودھری نے للن سنگھ کے بیان پر وضاحت دی ہے۔ انہوں نے کہا، ‘جو کچھ انہوں نے (للن سنگھ) کہا اس کا مطلب یہ نہیں ہے جو اپوزیشن کے لیڈران بتانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ نتیش کمار نہ مسلمان ہیں، نہ ہندو، نہ سکھ اور نہ عیسائی۔ نتیش کمار ایک انسان ہیں۔ سب کے لیے یکساں کام کرتے ہیں ۔
کانگریس نے للن سنگھ کو بنایا نشانہ
للن سنگھ کے بیان پر کانگریس نے بھی بیان جاری کیا ہے۔ بہار کے کانگریس لیڈر شکیل احمد خان نے للن سنگھ کے بیان کو لے کر نشانہ بنایا ہے۔ شکیل احمد نے کہا ہے کہ کیا ان کے پاس (للن سنگھ) ایکسرے مشین ہے؟ للن کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے شکیل احمد نے کہا کہ وہ (للن سنگھ) صرف چمچہ گیری کرتے ہیں۔
آر جے ڈی نے للن کے بیان پرکیا رد عمل کا اظہار
للن سنگھ کے بیان سے بہار میں سیاست گرم ہو گئی ہے۔ ان کے بیان کی آر جے ڈی ایم ایل اے اور سابق وزیر اسرائیل منصوری نے سخت مذمت کی ہے۔ منصوری نے کہا ہے کہ انہوں نے (للن سنگھ) جے ڈی یو کے مسلم لیڈروں کو سوچنے کے لیے کچھ دیا ہے۔ بیلا گنج، امام گنج اور رام گڑھ میں مسلمانوں نے ووٹ نہیں دیا تو وہ کیسے جیت گئے؟
‘یہ بات آئینی عہدے پر نہیں ہونی چاہیے’
اسرائیل منصوری نے مزید کہا، ‘جو مسلمان اب بھی جے ڈی یو کے بارے میں سوچتے ہیں انہیں ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مرکزی وزیر للن سنگھ پر سخت حملہ کرتے ہوئے اسرائیل منصوری نے کہا کہ آئینی عہدے پر فائز شخص کو یہ نہیں کہنا چاہیے۔
نتیش کمار کی پارٹی اور اس کے کچھ لیڈر آر ایس ایس اور بی جے پی کی گود میں بیٹھے ہیں۔ اسی لیے ایسے بیانات دیے جا رہے ہیں۔ اس سے نتیش کمار اور پارٹی دونوں کی شبیہ تباہ ہو جائے گی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




