Bharat Express DD Free Dish

Mann Ki Baat: ’’پہلے دہشت گردانہ حملوں کے بعد انتظار ہوتا تھا، اب زیرو ٹالرنس پالیسی…‘‘، ’من کی بات‘ میں پی ایم مودی کا بیان

اپنے امریکہ کے دورے کو یاد کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ مجھے یاد ہے، 2014 میں وزیر اعظم بننے کے بعد جب میں امریکہ گیا تھا تو نیویارک میں ان بے قصور شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرنے پہنچا تھا۔ آج ایک بار پھر ہندوستان کے کروڑوں شہریوں کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کے تئیں اپنی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 138ویں قسط میں ملک کے عوام سے خطاب کیا۔ اس بار کا پروگرام خاص رہا، کیونکہ پی ایم مودی نے سرجیکل اسٹرائیک کی 10ویں سالگرہ سے ایک دن قبل دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی فیصلہ کن پالیسی پر تفصیل سے بات کی۔

’من کی بات‘ میں ملک کی کامیابیوں کا ذکر

پروگرام کے آغاز میں پی ایم مودی نے کہا، ’’میں ملک کے تمام لوگوں کا استقبال کرتا ہوں۔ ’من کی بات‘ میں ہم ملک کے لوگوں کی مثبت کوششوں کو ایک پلیٹ فارم دیتے ہیں۔ ملک کی کامیابیوں کی بات کرتے ہیں۔ ہندوستان کی ایسی ہی ایک بڑی تاریخی کامیابی کو ایک دن بعد 10 سال مکمل ہونے جا رہے ہیں۔ یہ کامیابی ’سرجیکل اسٹرائیک‘ ہے۔‘‘

2016 کی سرجیکل اسٹرائیک کو کیا یاد

28-29 ستمبر 2016 کی رات کو یاد کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا، ’’دس سال پہلے 28-29 ستمبر 2016 کو ہندوستانی فوج نے پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل اسٹرائیک کی تھی۔ ایل او سی کے پار جا کر ہمارے بہادر جوانوں نے جس طرح دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی، اسے دیکھ کر دنیا حیران رہ گئی تھی۔ سرجیکل اسٹرائیک نے پوری دنیا کے سامنے ہندوستان کی دہشت گردی مخالف پالیسی کی ایک نئی مثال پیش کی تھی۔‘‘

سرجیکل اسٹرائیک تکلیف کے خلاف فیصلہ کن جواب

انہوں نے کہا کہ دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے ہندوستان نے طویل عرصے تک جس درد کو برداشت کیا، سرجیکل اسٹرائیک اس تکلیف کے خلاف ایک فیصلہ کن جواب تھا۔ پی ایم مودی نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان کی تبدیل شدہ حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک سے لے کر ’آپریشن سندور‘ تک ہندوستان نے بار بار واضح پیغام دیا ہے کہ اگر دہشت گرد ہندوستان کی طرف آنکھ اٹھائیں گے تو انہیں سخت جواب دیا جائے گا۔

سیریل دھماکوں اور 26/11 حملے کا ذکر

پی ایم مودی نے ملک کے ماضی کے حالات کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’’ایک وقت تھا جب ہندوستان میں سلسلہ وار بم دھماکے ہونا بہت عام بات ہو گئی تھی۔ ستمبر کے اسی مہینے میں، یعنی 13 ستمبر 2008 کو دہلی میں ہوئے سلسلہ وار دھماکوں میں متعدد بے قصور لوگ مارے گئے تھے۔ اس کے کچھ ہی ہفتوں بعد ممبئی میں 26/11 کا اتنا بڑا حملہ ہوا تھا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پہلے ہر دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا تھا، لیکن اس پر اتنی توجہ نہیں دی جاتی تھی اور وقت گزرنے کا انتظار کیا جاتا تھا۔ پی ایم مودی نے کہا، ’’آج کا ہندوستان دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کر رہا ہے اور ہم اس کے نتائج بھی دیکھ رہے ہیں۔‘‘

9/11 حملے کی 25ویں برسی کا بھی کیا ذکر

’من کی بات‘ میں پی ایم مودی نے امریکہ میں ہوئے 9/11 دہشت گردانہ حملے کی 25ویں برسی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’اس سال 9/11 کے دہشت گردانہ حملے کو بھی 25 سال ہو گئے ہیں۔ امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں جن بے قصور لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں، ان میں امریکہ کے بعد سب سے زیادہ لوگ ہندوستانی تھے۔‘‘

نیویارک میں متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرنے کا ذکر

اپنے امریکہ کے دورے کو یاد کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا، ’’مجھے یاد ہے، 2014 میں وزیر اعظم بننے کے بعد جب میں امریکہ گیا تھا تو نیویارک میں ان بے قصور شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرنے پہنچا تھا۔ آج ایک بار پھر ہندوستان کے کروڑوں شہریوں کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کے تئیں اپنی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔