Bharat Express DD Free Dish

Women Reservation Bill

منگل 14 اپریل کو اپنے بیان میں امت شاہ نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ یہ ملک کی ’ناری شکتی‘ کا بنیادی حق بھی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ موجودہ حکومت اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اسے مزید تاخیر کے بغیر عملی شکل دی جانی چاہیے۔

معروف سماجی کارکن ڈاکٹر شالینی علی کے مطابق قدیم ہندوستان میں خواتین کو نمایاں مقام حاصل تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ سماجی برائیوں اور عدم مساوات کے باعث ان کی حیثیت کمزور ہو گئی۔ تاہم جدید ہندوستان میں تعلیم، بیداری اور حکومتی پالیسیوں کے ذریعے خواتین کو دوبارہ بااختیار بنانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اس مہم کا مقصد خواتین کے حقوق اور ان کی نمائندگی کو مضبوط بنانے کے لیے حال ہی میں پیش کیے گئے ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ کے تئیں عوامی حمایت کا اظہار کرنا اور اس کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ پروگرام کے منتظمین کے مطابق یہ صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک سماجی تحریک ہے، جس کے ذریعے خواتین کے مقام کو مزید مستحکم کرنے کا پیغام دیا جائے گا۔

نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقدہ ’’ناری شکتی وندن سمیلن‘‘ سے وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے نفاذ کے لیے 2029 تک کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے وسیع اتفاق رائے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ یہ قدم سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اجتماعی تعاون سے مکمل کیا جائے، تاکہ ملک کی خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جا سکے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو ہر معاملے کو ایک ”ایونٹ“ بنانے کی عادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس طرح کے حساس معاملات پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت نے ابھی تک بل کا مسودہ پیش نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود اپوزیشن سے تعاون مانگا جا رہا ہے، جو قابل اعتراض ہے۔

وزیر اعظم مودی پیر کے روز وگیان بھون میں ”ناری شکتی وندن سمیلن“ سے خطاب کریں گے۔ اس قومی سطح کے پروگرام میں وہ ملک بھر کی خواتین سے براہ راست مکالمہ بھی کریں گے اور مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔

پدم شری اعزاز یافتہ معروف لوک گلوکارہ ارمیلا سریواستو نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند قدم ہے جس کا خواتین کو طویل عرصے سے انتظار تھا۔ ان کے مطابق اگر خواتین کے لیے ریزرویشن بل منظور ہو جاتا ہے تو اس سے سیاست میں ان کی نمائندگی بڑھے گی اور وہ اپنے مسائل اور خیالات کو مؤثر انداز میں پیش کر سکیں گی۔

وزیر اعظم نے خواتین کی طاقت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سائنس، ٹیکنالوجی، کھیل، فوج اور فنون سمیت ہر شعبے میں خواتین نے اپنی مضبوط پہچان بنائی ہے۔ پچھلے 11 سالوں میں خواتین کے بااختیار بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سیاست اور قانون سازی میں خواتین کی نمائندگی ابھی بھی کم ہے۔

مدھیہ پردیش کے ڈپٹی سی ایم راجیندر شکلا نے کہا کہ اب ایم پی میں سرکاری نوکری میں جو بھی بھرتی ہوگی اس میں خواتین کو 35 فیصد ریزرویشن ہوگا۔ پہلے ریاست میں سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے لیے 30 فیصد ریزرویشن تھا جسے بعد میں بڑھا کر 33 فیصد کردیا گیا اور اب اسے بڑھا کر 35 فیصد کردیا گیا ہے۔

بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ مودی جی کے تیسرے دور میں ہندوستان دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن جائے گا۔