Bharat Express DD Free Dish

PM Modi On Women Reservation Bill: پنچایت سے پارلیمنٹ تک ناری شکتی… وزیر اعظم مودی کل خواتین سے کریں گے براہ راست خطاب

وزیر اعظم مودی پیر کے روز وگیان بھون میں ”ناری شکتی وندن سمیلن“ سے خطاب کریں گے۔ اس قومی سطح کے پروگرام میں وہ ملک بھر کی خواتین سے براہ راست مکالمہ بھی کریں گے اور مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔

نئی دہلی: ملک میں خواتین کو سیاسی اور سماجی سطح پر مزید بااختیار بنانے کے مقصد سے ایک اہم پیش رفت کے طور پر وزیر اعظم نریندر مودی پیر کے روز وگیان بھون میں ”ناری شکتی وندن سمیلن“ سے خطاب کریں گے۔ اس قومی سطح کے پروگرام میں وہ ملک بھر کی خواتین سے براہ راست مکالمہ بھی کریں گے اور مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔ یہ کانفرنس خواتین کے لیے مجوزہ 33 فیصد ریزرویشن کے قانون پر مرکوز ہوگی، جسے عام طور پر ناری شکتی وندن ایکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ پروگرام پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے عین قبل منعقد ہو رہا ہے، اس لیے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ حکومت کا مقصد اس کے ذریعے خواتین کی قیادت کو فروغ دینا اور ”وکست بھارت“ کے وژن میں ان کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔

اس سمیلن میں ملک بھر سے مختلف شعبوں جیسے سیاست، تعلیم، سائنس، کھیل، کاروبار، میڈیا، ثقافت اور سماجی خدمات سے وابستہ ممتاز خواتین کو مدعو کیا گیا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر مختلف پس منظر سے آنے والی خواتین ایک ساتھ جمع ہوں گی اور ملک کی ترقی میں اپنے کردار پر گفتگو کریں گی۔ اس کے علاوہ موجودہ خواتین ارکان پارلیمنٹ کو بھی اس پروگرام میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال کی ترقی انّپورنا دیوی یادو، وزیر مملکت ساوتری ٹھاکر، دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور قومی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن وجیا کے رہاٹکر بھی اس کانفرنس میں شریک ہوں گی۔ ان رہنماؤں کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ حکومت خواتین کے مسائل اور ان کی نمائندگی کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔

حکومت کی جانب سے ”پنچایت سے پارلیمنٹ تک، فیصلوں میں ناری، نو بھارت کی تیاری“ کے نعرے کے ساتھ اس پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے، تاکہ پالیسی سازی میں ان کی مؤثر نمائندگی ہو سکے۔ یہ کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب 16 اپریل سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس شروع ہونے جا رہا ہے، جس میں خواتین کے لیے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد ریزرویشن سے متعلق آئینی ترامیم پر غور کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ستمبر 2023 میں پارلیمنٹ نے اس قانون کو منظوری دی تھی، جس کے تحت قانون ساز اداروں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی راہ ہموار ہوئی۔

اس قانون کے مطابق مستقبل میں لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 816 ہو سکتی ہے، جن میں سے 273 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہوں گی۔ تاہم اس قانون کے مکمل نفاذ کے لیے مردم شماری اور حلقہ بندی کے عمل کی تکمیل ضروری قرار دی گئی ہے، جس کے بعد ہی خواتین کا کوٹہ عملی طور پر نافذ ہو سکے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی پہلے ہی اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کے قیام کے لیے ”ویمن لیڈ ڈیولپمنٹ“ نہایت ضروری ہے۔ ان کے مطابق خواتین کی قیادت کو آگے لائے بغیر ملک کی ہمہ جہت ترقی ممکن نہیں۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر اس آئینی ترمیمی بل کی حمایت کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کانفرنس نہ صرف خواتین کے حقوق کو تقویت دے گی بلکہ ملک کی سیاست میں ایک نئی سمت بھی متعین کرے گی، جہاں خواتین کو فیصلہ سازی میں مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read