Bharat Express DD Free Dish

Women Empowerment

نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقدہ ’’ناری شکتی وندن سمیلن‘‘ سے وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے نفاذ کے لیے 2029 تک کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے وسیع اتفاق رائے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ یہ قدم سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اجتماعی تعاون سے مکمل کیا جائے، تاکہ ملک کی خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی نہ صرف جمہوری اقدار کو مضبوط کرے گی بلکہ سماجی اور اقتصادی ترقی کو بھی نئی سمت دے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، تاکہ وہ ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔

ستمبر 2023 میں پارلیمنٹ نے ناری شکتی وندن ادھینیم منظور کیا تھا، جس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں محفوظ کی گئی ہیں۔ اس قانون کے مؤثر نفاذ کے پیش نظر اسی ماہ کی 16 تاریخ سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے، جس میں خواتین کے ریزرویشن سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

حکومت نے خواتین ریزرویشن بل پر غور کے لیے پارلیمنٹ کا ایک خصوصی اجلاس طلب کیا ہے، جو ملک میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی سمت ایک بڑا قدم مانا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت صنفی مساوات کو فروغ دینے اور خواتین کی سیاسی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔

 وزیراعظم نے آسام کے شہر ڈبروگڑھ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 16، 17 اور 18 اپریل کو پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خواتین کے ریزرویشن قانون میں ترمیم پر تفصیلی بحث ہوگی۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ 2029 کے عام انتخابات میں کم از کم 33 فیصد خواتین پارلیمنٹ کی رکن بنیں۔

وزیر اعظم نے ریاست کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے ایل ڈی ایف اور یوڈی ایف پر الزام لگایا کہ انہوں نے باری باری اقتدار میں رہ کر بھی ریاست کو مضبوط ترقی نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت اور بلیو اکانومی جیسے شعبوں میں بے پناہ امکانات کے باوجود کیرالہ پیچھے رہ گیا ہے۔

اتر پردیش کے مرزا پور کے مڑیہان علاقے میں ’’دیدی کیفے‘‘ کا آغاز کیا گیا ہے، جو نہ صرف صاف ستھرا اور معیاری کھانا فراہم کر رہا ہے بلکہ دیہی خواتین کو خود مختار بنانے کی ایک مضبوط کوشش بھی بن گیا ہے۔ چھوٹے قصبوں میں عموماً صاف اور معیاری کھانا حاصل کرنا ایک چیلنج ہوتا ہے، کیونکہ سڑک کنارے ڈھابوں اور ٹھیلوں پر کھانے کی کوالٹی پر سوال اٹھتے رہتے ہیں۔ اسی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اڈانی فاؤنڈیشن کی پہل پر ’’دیدی کیفے‘‘ شروع کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ جے نارائن مشرا پوسٹ گریجویٹ کالج کے اساتذہ اعلیٰ معیار کے رہے ہیں، جس کے باعث یہاں کے نتائج بھی ہمیشہ شاندار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو علم کی روشنی سے منور کرنے والے اس ادارے کی ترقی قابل تعریف ہے اور اس کے بانی جے نارائن مشرا کا سماج کے لیے بڑا تعاون رہا ہے۔

پریتی اڈانی نے اعلان کیا کہ اگلے مرحلے میں مہاراشٹر کی ایک لاکھ خواتین کو اس پہل سے جوڑا جائے گا۔ اس کے بعد آنے والے برسوں میں اسے پورے ملک تک پھیلا کر 10 لاکھ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔

پروگرام کے منتظمین کے مطابق اس تربیت نے خواتین میں خود اعتمادی پیدا کی ہے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کا موقع ملا ہے۔ بہت سی خواتین نے گھریلو صنعت، دستکاری، کھانے پینے کے سامان اور دیگر چھوٹے کاروبار شروع کر کے اپنی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔