لکھنؤ: ڈاکٹر دنیش شرما رکن راجیہ سبھا اور اترپردیش کے سابق نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم معاشرے میں تبدیلی لانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے انسان کے اندر ایک نئی شخصیت جنم لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ اخلاقی اقدار کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ جدیدیت کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت کا تحفظ بھی بے حد ضروری ہے۔ تعلیم کے میدان میں چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی اصلاح ہی روشن مستقبل کی راہ ہموار کرتی ہے۔ وہ جے نارائن مشرا پوسٹ گریجویٹ کالج کے یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے کاروباری رجحان کے اس دور میں بھی کچھ ادارے اس سے الگ ہیں اور یہ کالج انہی میں سے ایک ہے، جہاں ہندوستانی تہذیب اور معیاری تعلیم کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کالج کی مسلسل ترقی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں نیشنل اسیسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (NAAC) کی درجہ بندی مزید بہتر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ علم کا جو پودا برسوں پہلے لگایا گیا تھا وہ آج ایک تناور درخت بن چکا ہے اور آنے والے وقت میں اسے پورے ملک میں پھیلنا چاہیے۔ اس ادارے کی ایک شاندار تاریخ رہی ہے۔
طالبات کی کامیابی خواتین کی طاقت کی علامت
ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ آج تعلیم کے میدان میں طالبات طلبہ سے آگے بڑھ رہی ہیں، جو خواتین کے بااختیار ہونے کی سب سے بڑی مثال ہے۔ جو ادارہ کبھی مردوں کی برتری کے لیے جانا جاتا تھا، وہ آج خواتین کی ترقی کی علامت بن گیا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں بہتری کا عمل تیزی سے آگے بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ NAAC کا اے گریڈ حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کالج میں نقل کے خلاف کارروائی کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں نقل کرانے والوں کو پکڑنے کا بھی کام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کے اساتذہ اعلیٰ معیار کے رہے ہیں، جس کے باعث یہاں کے نتائج بھی ہمیشہ شاندار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو علم کی روشنی سے منور کرنے والے اس ادارے کی ترقی قابلِ تعریف ہے اور اس کے بانی جے نارائن مشرا کا سماج کے لیے بڑا تعاون رہا ہے۔
خواتین کا احترام ضروری
ڈاکٹر شرما نے کہا کہ معاشرے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ دونوں کو ملک کی ترقی کے لیے برابر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی بے عزتی کے سبب ہی مہابھارت جیسی بڑی جنگ ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص عورت کا احترام نہیں کرتا وہ کبھی خوشحال نہیں رہ سکتا۔ عورت کا احترام سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ جہیز کے لیے خواتین پر ظلم کرنے والے سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں مرد اور عورت دونوں ہی ہراسانی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہراسانی کے باعث خودکشی کرنے والے مردوں کی تعداد بعض اوقات خواتین سے زیادہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فلسفے میں شادی کو سات جنموں کا بندھن مانا جاتا ہے، مگر آج کل حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ کئی بار سات دن میں ہی طلاق ہو جاتی ہے۔ خاندانی تعلقات میں تلخی کے باعث بعض اوقات پورا خاندان عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس لیے اخلاقی تعلیم بھی ضروری ہے تاکہ بچوں کو معاشرے اور خاندان کے تئیں اپنی ذمہ داریاں سمجھائی جا سکیں۔
لکھنؤ کو اے آئی سٹی بنانے کی تیاری
انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں دارالحکومت لکھنؤ کو اے آئی سٹی بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے، اس لیے اسی کے مطابق تعلیمی کورسز بھی شروع کیے جانے چاہئیں۔ ایسا نظام ہونا چاہیے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں۔ اپنے نائب وزیراعلیٰ کے دور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت نقل روکنے کے لیے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اتر پردیش کو نقل سے پاک امتحان کا ماڈل بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور تحقیق کو فروغ دینے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے تھے۔
قوم کے معمار ہوتے ہیں اساتذہ
انہوں نے کہا کہ استاد دراصل قوم کا معمار ہوتا ہے، اس لیے اساتذہ کو زندگی بھر مطالعہ اور تحقیق سے جڑے رہنا چاہیے۔ انہوں نے کالج میں تحقیق کو مزید فروغ دینے کی بھی اپیل کی۔ اس تقریب میں بطور مہمان خصوصی سابق وائس چانسلر کانپور بندیل کھنڈ یونیورسٹی کے پروفیسر جے وی ویشیمپاین، ڈائریکٹراعلیٰ تعلیم بی ایل شرما، کے کے سی کے پرنسپل کے کے شکلا، لواکتا کے صدر منوج پانڈے، اعلیٰ تعلیمی افسر اشونی کمار مشرا، علاقائی کونسلر سشیل تیواری پمی، شری اٹل بہاری واجپائی میونسپل ڈگری کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سبھاش پانڈے، نائب صدر کاویہ کنج کمیٹی مسز شکھا شکلا، سنمے شکلا، ایڈوکیٹ جنرل گوپال نارائن مشرا، پروگرام کی موڈریٹر پروفیسر پائل گپتا سمیت دیگر معزز شخصیات اور بڑی تعداد میں اساتذہ و طلبہ موجود تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


