Bharat Express DD Free Dish

education reform

یومِ آزادی سے قبل قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ حکومت سرکاری امتحانات کے نظام میں جامع اصلاحات کر رہی ہے، جن کا مقصد امتحانات میں غیر منصفانہ ذرائع کے استعمال کو مکمل طور پر روکنا اور نظام کو نوجوانوں کے لیے زیادہ شفاف، محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔

رانچی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا، ’’میں نے جھارکھنڈ میں JPSC اور JSSC بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات کی ہے۔ سی جے پی جھارکھنڈ کے تمام طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔‘‘

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بل پر جامع بحث کے لیے چھ گھنٹے کا وقت دینے کی پیش کش کی ہے جس پر حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے بھی ہے۔ منگل کو بل پر تفصیلی بحث شروع ہونے کا امکان۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے طلبا کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ پارٹی پنجاب میں امتحانی پرچے کے لیک ہونے کے معاملے کا جائزہ لے گی اور جلد اپنی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ  طلبا کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ امتحانی اصلاحات کو نافذ کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی ماہر نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک ہائی پاورڈ ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔

مرکزی حکومت نے جمعرات کو وزارت تعلیم میں بھی بڑی انتظامی تبدیلی کی ہے۔ حکومت نے 1994 بیچ کے راجستھان کیڈر کے آئی اے ایس افسر نریش پال گنگوار کو اعلیٰ تعلیم کے محکمے کا نیا سکریٹری مقرر کیا ہے۔ انہوں نے ونیت جوشی کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے۔

عالیہ بھٹ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک نوٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا ’’گزشتہ چند دنوں نے کئی مرتبہ میرا دل توڑا اور پھر امید کے ساتھ اسے جوڑا۔ ہر طالب علم کے پیچھے ایک خواب، خاندان کی امید، برسوں کی محنت اور قربانی کی ایک کہانی چھپی ہوتی ہے۔ طلبہ صرف اپنے لیے آواز نہیں اٹھا رہے، بلکہ وہ ان لوگوں کی امیدوں کی بھی نمائندگی کر رہے ہیں جنہوں نے ان کا ساتھ دیا ہے۔‘‘

پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن تعلیمی شعبے سے متعلق اہم مسائل پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن اسی معاملے پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

مرکزی تعلیمی بورڈ نے مطالبہ کیا کہ بل کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی(جے پی سی ) ریاستی حکومتوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں، اساتذہ، طلبہ، ماہرینِ تعلیم اور دیگر متعلقہ فریقوں کی آراء اور تجاویز کو سنجیدگی سے زیرغور لائے، تاکہ مجوزہ قانون زیادہ متوازن، قابل عمل اور وسیع تعلیمی قبولیت کا حامل بن سکے۔

کوٹا سے شروع ہونے والی مہم میں طلبہ، مقابلہ جاتی امتحانات کے امیدوار، اساتذہ اور نوجوان تنظیموں کو شامل کیا جائے گا۔ یہ مہم ایسے وقت میں شروع کی جا رہی ہے جب NEET-UG 2026 امتحان پرچہ لیک اور انتظامی بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں امتحان کو دوبارہ 21 جون کو منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔