Bharat Express DD Free Dish

Women Empowerment

مودی حکومت کے 12 برسوں کے دوران خواتین کو سماجی اور معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے شروع کی گئی متعدد اسکیمیں گیم چینجر ثابت ہوئی ہیں۔

اڈانی فاؤنڈیشن نے مدھیہ پردیش کے ضلع شیو پوری کے گاؤں بدر باس کے قریب ایک نیا اڈانی وکاس مرکز شروع کر دیا ہے۔ یہ مرکز ڈاکٹر پریتی اڈانی کے ’سوا بھیمان وژن‘ کا حصہ ہے، جس کا مقصد خواتین کو گھر کے قریب روزگار اور مستحکم آمدنی فراہم کرنا ہے۔

خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 13 اضلاع کی کمان خواتین ضلعی مجسٹریٹس کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کے بعد اتر پردیش ملک میں سب سے زیادہ خواتین ڈی ایم رکھنے والی ریاستوں میں دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔

واضح رہے کہ 17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا، جس پر تقریباً 21 گھنٹے طویل بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ ووٹنگ میں 528 ارکان نے حصہ لیا، جن میں 298 نے بل کے حق میں جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ تاہم بل کو پاس کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، جس کے باعث یہ بل 54 ووٹوں سے مسترد ہو گیا۔

منوج تیواری نے اپنے بیان میں ڈی ایم کے، کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں کے لیے خواتین کو بااختیار بنانے کی باتیں محض تقریروں تک محدود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ پارٹیاں حقیقت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی شمولیت سے خوفزدہ ہیں۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا یہ خصوصی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک جاری رہے گا، جس میں خواتین ریزرویشن، حلقہ بندی اور دیگر اہم آئینی و سیاسی امور پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔ اس اجلاس کو ملک کی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں خواتین کی شمولیت اور نمائندگی کے حوالے سے بڑے فیصلے سامنے آ سکتے ہیں۔

منگل 14 اپریل کو اپنے بیان میں امت شاہ نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ یہ ملک کی ’ناری شکتی‘ کا بنیادی حق بھی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ موجودہ حکومت اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اسے مزید تاخیر کے بغیر عملی شکل دی جانی چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ خواتین کو ان کا جائز حق دینے میں مزید تاخیر ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والا پارلیمانی اجلاس اس سمت میں ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا اور آنے والی نسلیں اسے ایک سنگ میل کے طور پر یاد رکھیں گی۔

معروف سماجی کارکن ڈاکٹر شالینی علی کے مطابق قدیم ہندوستان میں خواتین کو نمایاں مقام حاصل تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ سماجی برائیوں اور عدم مساوات کے باعث ان کی حیثیت کمزور ہو گئی۔ تاہم جدید ہندوستان میں تعلیم، بیداری اور حکومتی پالیسیوں کے ذریعے خواتین کو دوبارہ بااختیار بنانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔

نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقدہ ’’ناری شکتی وندن سمیلن‘‘ سے وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے نفاذ کے لیے 2029 تک کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے وسیع اتفاق رائے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ یہ قدم سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اجتماعی تعاون سے مکمل کیا جائے، تاکہ ملک کی خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جا سکے۔