Bharat Express DD Free Dish

West Bengal

ملاقات کے دوران ایک جذباتی لمحہ بھی سامنے آیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے یوسف پٹھان کے والد کے ساتھ اپنی پرانی ملاقات کو یاد کیا۔ ماضی کی اس ملاقات کا ذکر ہوتے ہی ماحول مزید جذباتی اور دوستانہ ہوگیا۔ یوسف پٹھان کے لیے بھی یہ لمحہ خاص اہمیت کا حامل رہا۔

ترنمول کانگریس سربراہ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حالات پر نظر رکھیں اور سوچیں کہ کیا بنگال اپنی شناخت کھو دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے بی جے پی نے کئی وعدے کیے تھے، لیکن اب ان پر کوئی عمل نظر نہیں آتا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ پولیس کا احترام کرتی ہیں، لیکن ان کا الزام ہے کہ بعض اہلکاروں کو سیاسی کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔  انہوں نے کہا ’’مجھے کہا جا رہا ہے کہ یا تو دوسرے گروپ میں شامل ہو جاؤ یا پھر جیل جانے کے لیے تیار رہو۔ کیا یہی پولیس کا کام ہے؟‘‘

تقریباً دو دہائیوں بعد کولکاتا پہنچنے پر تسلیمہ نسرین کا بیان۔ موجودہ حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایک حکومت نے شہر چھوڑنے پر مجبور کیا، دوسری نے آنے نہیں دیا اور ان کا خیرمقدم کیا۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد بنگال میں ترقی کے نئے دور کا آغاز، عوامی جدوجہد اور وزیراعلیٰ سوویندو ادھیکاری کی قیادت میں ’سونار بنگلہ‘ کا خواب پھر زندہ ہوگیا ہے۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ انہوں نے پورے میوزیم کا دورہ کیا ہے اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ یہاں ’لفظ‘ کے سفر کو خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اس داستان کو کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں تک بھی وسعت دی جانی چاہیے، تاکہ ہندوستانی زبانوں کو جدید دور میں مکمل قبولیت حاصل ہو سکے۔

ہفتہ کی صبح ہاوڑہ ضلع کے رام کرشن پور فیری جیٹی کے قریب صبح کی سیر کرنے والے کچھ افراد نے دمیانتی کو بغیر کسی واضح مقصد کے اِدھر اُدھر گھومتے ہوئے دیکھا۔ لوگوں نے انہیں پہچان لیا اور فوراً ان کے اہل خانہ کو اطلاع دی۔ اطلاع ملنے پر ان کے والد دھرو جیوتی سین موقع پر پہنچے اور اپنی بیٹی کو بحفاظت گھر لے آئے۔

یہ احتجاج اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ریاستی حکومت نے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے 130 سال سے زائد قدیم بانکڑا مسجد کو ہوائی اڈے کے احاطے سے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جمعیۃ علماء ہند (مغربی بنگال) کے صدر صدیق اللہ چودھری نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’آج بھارت کے لیے یوم سیاہ ہے۔‘‘

ریاستی کابینہ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل واپس۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے 75 مسلم برادریوں سمیت 77 برادریوں کو او بی سی فہرست میں شامل کرنے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

ایئرپورٹ انتظامیہ نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ مسلسل بارش کے باعث مسجد تک جانے والی سڑک کونقصان پہنچا ہے، جس کی فوری مرمت ضروری ہے۔ اسی وجہ سے دو دن کے لیے آمد ورفت بند کی گئی تھی اور امید ظاہر کی گئی تھی کہ اگرمرمت کا کام وقت پرمکمل ہو گیا تو پیر (13 جولائی) سے نمازیوں کو دوبارہ مسجد میں داخلے کی اجازت دے دی جائے گی۔

مہوا موئترا نے کہا کہ سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مغربی بنگال ہندوستان کا حصہ ہے، جہاں آئین کی حکمرانی چلتی ہے۔ ان کے مطابق ریاست میں بھی قانون کی بالادستی ہونی چاہیے، جہاں ہر ملزم کو عدالتی کارروائی میں شامل ہونے اور قانون کے مطابق سزا پانے کا پورا حق حاصل ہو، چاہے اس پر کتنا ہی سنگین الزام کیوں نہ ہو۔