Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill 2025

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے وقف ترمیمی بل کی منظوری کے بعد ملک گیر احتجاج پھوٹ پڑا ہے۔ یہ احتجاج جمعہ کی نماز کے فوراً بعد شروع ہوا اور ملک بھر میں پھیل گیا۔

مسلم راشٹریہ منچ (MRM) نے اس بل کو ایک تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو، جے پی سی چیئرمین جگدمبیکا پال اور منچ کے ہزاروں کارکنوں کی کاوشوں کو سلام پیش کیا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طلبہ تنظیم 'شہرِ-آرزو' نے آج جامعہ کیمپس میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں پارلیمنٹ کے ذریعے منظور شدہ وقف (ترمیمی) بل 2024 کی حمایت کا اعلان کیا۔

وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ سے منظوری ملنے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، ملی  تنظیمیں اورہزاروں مسلمانوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ وہیں آل انڈیا مسلم جماعت نے بل کی حمایت کی ہے۔

اداکار سے سیاست دان بننے والے وجے کی پارٹی تملاگا ویتری کزگم (ٹی وی کے)نے تمل ناڈو میں وقف ترمیمی بل 2025 کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بل کو غیر آئینی اور امتیازی قرار دیا ہے۔

راجیہ سبھا میں جمعہ کی صبح وقف بل منظور ہونے سے چند گھنٹے قبل مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعرات کو الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ’’ملک کو تقسیم کرنے‘‘ کے لیے یہ بل لائی ہے۔

راجیہ سبھا میں کل دیررات وقف ترمیمی بل پرہوئی ووٹنگ میں نیا تال میل نظرآیا۔ وقف ترمیمی بل کی حمایت 128 ووٹ پڑے اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے جبکہ حکومت کے پاس 125 اوراپوزیشن کے پاس 88 اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ ایسے میں آئیے آپ کو پوری تفصیل بتاتے ہیں۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے الزام لگایا کہ حکومت اس بل کو مسلم خواتین کے مفاد میں بتا رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسلم طبقے کے خلاف ایک سیاسی ایجنڈا ہے۔

مرکزی حکومت کے ذریعہ لایا گیا وقف ترمیمی بل 2024 لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بھی منظور ہوگیا ہے۔ لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی بحث کافی دیرتک چلے گی۔ اب یہ بل قانون بننے کی سمت میں آگے بڑھ چکا ہے۔

شیوسینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت کی نظر وقف بورڈ کی زمین پر ہے اور مستقبل میں وہ مندروں، گرجا گھروں اور گوردواروں کی زمین پر بھی نظریں گڑا سکتی ہے۔