Bharat Express DD Free Dish

Uttar Pradesh

لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) کیمپس میں واقع قدیم مزارات کو لے کر جاری انہدامی نوٹس نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ جمعیۃ علمائے ہند نے اس کارروائی کو مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نوٹس فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اتحاد، تنوع اور قومی ترقی میں اقلیتی تعلیم کے کردار پر غور کے لیے لکھنؤ میں نامور رہنماؤں اور ماہرین تعلیم کا اجتماع

ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ ڈیفنس کوریڈور نے ریاست کی شناخت بدل دی ہے۔ جس ریاست کو کبھی کٹے کے لیے جانا جاتا تھا، آج وہاں میزائل اور آٹومیٹک رائفلیں تیار کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ مہاکمبھ میں 66 کروڑ افراد نے شرکت کر کے سناتن کی طاقت کا مظاہرہ کیا، جو اپنے آپ میں ایک منفرد واقعہ تھا۔

اسی دوران وزیر اعلیٰ کی جانب سے او ڈی او پی اسکیم کی باضابطہ شروعات اور سردار ولبھ بھائی پٹیل ایمپلائمنٹ اینڈ انڈسٹریل زون یوجنا کا افتتاح بھی کیا جائے گا، جس سے ریاست میں روزگار اور صنعتی ترقی کو نئی سمت ملنے کی امید ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ بھارتی ثقافت اور وراثت کی خوشحالی میں بیش قیمت کردار ادا کرنے والے اتر پردیش کے تمام اہل خانہ کو یوم  تاسیس کی دل سے مبارکباد۔

لکھنؤ کے کے جی ایم یو کیمپس میں واقع مزار کو ہٹانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ نوٹس میں 15 دن کے اندر مزار ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے، بصورت دیگر انتظامیہ کارروائی کرے گی اور اس پر آنے والا خرچ بھی ذمہ داران سے وصول کیا جائے گا۔

اتر پردیش کے ضلع مہاراج گنج میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک مقامی لیڈر کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے کے بعد سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ویڈیو میں بی جے پی کے ضلع وزیر گوتم تیواری ایک کمرے کے اندر کھڑے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں فرش پر پانچ سو روپے کے نوٹوں کی بڑی تعداد میں گڈیاں رکھی ہوئی نظر آتی ہیں۔

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں بینک آف انڈیا کی صدر شاخ سے جڑے ایک بڑے مالی گھوٹالے نے ہلچل مچا دی ہے۔ الزام ہے کہ اتر پردیش فاریسٹ کارپوریشن کے نام پر جعلی دستاویزات کے ذریعے بچت کھاتہ کھول کر 64 کروڑ 82 لاکھ روپے کا غبن کیا گیا۔

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے اس واقعے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے، جس میں متاثرہ غریب خاندان کو ہر ممکن سرکاری امداد اور مناسب معاوضہ دلانے کی اپیل کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سرجنی نگر میں واقع اسکوٹر انڈیا کی تقریباً 70 ایکڑ زمین پر اس پلانٹ کا قیام مردہ اثاثے کو متحرک اثاثے میں بدلنے کی بہترین مثال ہے۔ اس منصوبے سے ایک ہزار سے زائد براہ راست روزگار اور ہزاروں نوجوانوں کے لیے بالواسطہ اور خود روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔