Bharat Express DD Free Dish

Uttar Pradesh

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ملک میں ایندھن اور بجلی کی بچت کے لیے کی گئی اپیل کے بعد ملک بھر میں سیاسی اور انتظامی حلقوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ اتر پردیش سے لے کر مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر تک وزراء، اعلیٰ افسران اور جج صاحبان نے اپنی روزمرہ زندگی میں کفایت شعاری اختیار کرتے ہوئے سرکاری اخراجات اور ایندھن کے استعمال میں کمی شروع کر دی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان اچانک اینٹ پتھراؤ شروع ہوگیا۔ اس دوران کچھ افراد تلواریں، بیلٹ اور اینٹ پتھر استعمال کرتے نظر آئے۔ میرج ہال میں چیخ و پکار مچ گئی اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔

ملزم جیتو سینی نے 0.32 بور پستول سے نوجوانوں پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں بی جے پی لیڈر کے خاندان کے تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ کیک لگانے کو لے کر ہونے والے تنازع نے شدت اختیار کی اور جیتو سینی نے آکاش، منیش اور امن دیپ کو گولی مار کر قتل کر دیا۔

ریلوے حکام کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ڈاؤن لائن پر گزرنے والی ٹرین کے گارڈ اور لوکو پائلٹ نے شام تقریباً 6:15 بجے ٹریک پر ایک لاش دیکھی، جس کے بعد فوری طور پر ٹرین کو روک دیا گیا۔ اس کے کچھ دیر بعد اپ لائن پر پرشوتم ایکسپریس وہاں سے گزری، جس کے دوران مزید افراد حادثے کا شکار ہو گئے۔

یہ جدید کوریڈور ایک بلند حصے پر تعمیر کیا گیا ہے تاکہ جنگلی حیات اور انسانوں کے درمیان تصادم کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اس منصوبے میں آٹھ خصوصی اینیمل پاس، دو ہاتھی انڈر پاس اور دات کالی مندر کے قریب 370 میٹر لمبی سرنگ شامل ہے۔

شالینی سنگھ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ہزاروں افراد اکٹھا ہو کر تشدد پر اتر آئیں تو یہ واضح طور پر پولیس اور خفیہ نظام کی ناکامی ہے۔  انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ انتظامیہ کو اس احتجاج کے ممکنہ خطرناک رخ کا اندازہ تک نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ سکیورٹی نظام میں بڑی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حکومت کے اس فیصلے سے لاکھوں مزدوروں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا اور خاص طور پر این سی آر کے صنعتی علاقوں میں کام کرنے والے کارکنوں کی آمدنی میں واضح بہتری آئے گی۔ یہ قدم بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر مزدوروں کو ریلیف دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق احتجاج کا آغاز نوئیڈا کے فیز-2 علاقے میں ہوا، جہاں مزدور اپنی تنخواہوں میں اضافے، کام کے بہتر حالات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے مطالبات لے کر سڑکوں پر نکلے تھے۔ ابتدا میں یہ مظاہرہ پرامن تھا، تاہم مطالبات پر فوری توجہ نہ دیے جانے کے باعث مزدوروں میں غصہ بڑھتا گیا اور حالات کشیدہ ہونے لگے۔

ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ اقلیتی طبقہ اپوزیشن کے لیے محض ووٹ بینک کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے لیے وہ ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی طرح کی خوشامد یا تفرقہ بازی پر یقین نہیں رکھتی بلکہ سب کے ساتھ انصاف اور مساوات کے اصول پر عمل پیرا ہے، جو ملک کو مضبوط بنانے کا واحد راستہ ہے۔

ایس آئی آر کی یہ مہم مجموعی طور پر 166 دنوں تک جاری رہی، جس کے دوران ووٹر لسٹ کی ہر سطح پر جانچ کی گئی۔ جاری کردہ حتمی فہرست کے مطابق ریاست میں 7 کروڑ 30 لاکھ 71 ہزار 61 مرد ووٹرز اور 6 کروڑ 9 لاکھ 9 ہزار 5 سو 25 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔