Bharat Express DD Free Dish

Uttar Pradesh

آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ سال 2014 کا لوک سبھا انتخاب صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ملک کی سمت بدلنے والا فیصلہ ثابت ہوا۔ ان کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس وقت نریندر مودی کو وزیر اعظم کے چہرے کے طور پر پیش کیا تھا اور عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ انہیں قبول کیا۔

حادثے کے فوراً بعد گاؤں میں چیخ و پکار مچ گئی اور بڑی تعداد میں لوگ موقع پر جمع ہوگئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی کمیونٹی ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا۔

دیپیکا کے والد سنجے نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی شادی 11 دسمبر 2024 کو رتک کے ساتھ ہوئی تھی۔ ان کے مطابق شادی کے چند دن بعد ہی سسرال والے جہیز کے لیے بیٹی کو ہراساں کرنے لگے تھے۔انہوں نے کہا کہ واقعے سے ایک دن پہلے وہ خود اپنی بیٹی کے سسرال گئے تھے

حادثے کی اطلاع ملتے ہی اتر پردیش پولیس کی کندھراپور تھانہ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور فوری طور پر راحت و بچاؤ کام شروع کر دیا۔ پولیس نے زخمیوں اور ہلاک شدگان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا اور ایکسپریس وے پر ٹریفک کی روانی بحال کرائی۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ملک میں ایندھن اور بجلی کی بچت کے لیے کی گئی اپیل کے بعد ملک بھر میں سیاسی اور انتظامی حلقوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ اتر پردیش سے لے کر مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر تک وزراء، اعلیٰ افسران اور جج صاحبان نے اپنی روزمرہ زندگی میں کفایت شعاری اختیار کرتے ہوئے سرکاری اخراجات اور ایندھن کے استعمال میں کمی شروع کر دی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان اچانک اینٹ پتھراؤ شروع ہوگیا۔ اس دوران کچھ افراد تلواریں، بیلٹ اور اینٹ پتھر استعمال کرتے نظر آئے۔ میرج ہال میں چیخ و پکار مچ گئی اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔

ملزم جیتو سینی نے 0.32 بور پستول سے نوجوانوں پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں بی جے پی لیڈر کے خاندان کے تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ کیک لگانے کو لے کر ہونے والے تنازع نے شدت اختیار کی اور جیتو سینی نے آکاش، منیش اور امن دیپ کو گولی مار کر قتل کر دیا۔

ریلوے حکام کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ڈاؤن لائن پر گزرنے والی ٹرین کے گارڈ اور لوکو پائلٹ نے شام تقریباً 6:15 بجے ٹریک پر ایک لاش دیکھی، جس کے بعد فوری طور پر ٹرین کو روک دیا گیا۔ اس کے کچھ دیر بعد اپ لائن پر پرشوتم ایکسپریس وہاں سے گزری، جس کے دوران مزید افراد حادثے کا شکار ہو گئے۔

یہ جدید کوریڈور ایک بلند حصے پر تعمیر کیا گیا ہے تاکہ جنگلی حیات اور انسانوں کے درمیان تصادم کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اس منصوبے میں آٹھ خصوصی اینیمل پاس، دو ہاتھی انڈر پاس اور دات کالی مندر کے قریب 370 میٹر لمبی سرنگ شامل ہے۔

شالینی سنگھ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ہزاروں افراد اکٹھا ہو کر تشدد پر اتر آئیں تو یہ واضح طور پر پولیس اور خفیہ نظام کی ناکامی ہے۔  انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ انتظامیہ کو اس احتجاج کے ممکنہ خطرناک رخ کا اندازہ تک نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ سکیورٹی نظام میں بڑی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔