Bharat Express DD Free Dish

Uttar Pradesh

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور انتظامی اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا اور ہلاک افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔ پولیس افسر نے بتایا کہ 5 زخمیوں میں سے 2 صحت یاب ہو کر گھروں کو چلے گئے ہیں، جب کہ 3 کا علاج جاری ہے۔

ریاستی وزیر نے ماہی گیر برادری پر زور دیا کہ وہ منظم ہو کر اپنے حقوق سے آگاہ رہیں اور معاشرے کی مجموعی ترقی میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔

ڈاکٹر سنجے کمار نشاد نے متاثرہ خاندان کی مالی حالت کو دیکھتے ہوئے نشاد پارٹی کی جانب سے فوری مالی امداد بھی فراہم کی۔

ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جو بھی لڑکی کے اہل خانہ سے بات کرے گا یا لین دین کرے گا اس پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

ایس پی لیڈر نے کہا کہ ہر بار تہواروں کے دوران ایسے سیاسی جھگڑے ہوتے ہیں اور یہ ایسے جھگڑے ہیں جو لوگوں کے درمیان دوریاں پیدا کررہے ہیں۔ یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ جتنی دوریاں پیدا کریں گے ہمارا ملک اتنا ہی کمزور ہوتا جائے گا۔

اتر پردیش کے رسرا میں شادی ہال میں شادی کی تقریب منعقد کرنے کے سبب ایک دلت خاندان پر مبینہ طور پر لاٹھیوں اور سلاخوں سے حملہ کیا گیا۔

ہفتہ کے روز ہردوئی میں ایک شادی سے واپس آ رہی باراتیوں کی کار کھائی میں گر گئی۔ اس حادثے میں ایک معصوم بچے سمیت پانچ افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔ معاملہ ہردوئی ضلع کے ماجھیلا تھانہ علاقے کے گاؤں کسوما کا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پالی تھانہ علاقہ کے پاٹیا نیم کے رہنے والے نیرج ولد رام سیوک کی بارات ماجھیلا تھانہ علاقہ کے کسوما گاؤں گئی تھی۔ شادی ختم ہونے کے بعد بارات واپس آرہی تھی کہ کسوما گاؤں کے قریب کار بے قابو ہوکر کھائی میں گر گئی۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کانپور سینٹرل بھی ہوائی اڈے کی طرح عالمی معیار کا نظر آئے گا۔ ہماری حکومت امرت بھارت یوجنا کے تحت 150 سے زیادہ اسٹیشنوں کی تزئین و آرائش کر رہی ہے۔ اتر پردیش اب ہر میدان میں آگے بڑھ رہا ہے۔ پہلے اس کی شناخت ٹوٹے پھوٹے گڑھوں سے ہوتی تھی، اب اس کی شناخت ایکسپریس وے سے ہوتی ہے۔

پرتاپ گڑھ ضلع کے مشہور دسہری اور چوسا آم نے دبئی اور عمان میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی ہے، جو اپنے غیر معمولی ذائقے اور خوشبو سے بین الاقوامی صارفین کو مسحور کر رہے ہیں۔

اتر پردیش حکومت نے اپنے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ کسانوں کی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔ 158 کوآپریٹو گنے کی کمیٹیوں، 27 کوآپریٹو شوگر ملوں، اور 152 گنے کی ترقیاتی کونسلوں کے ذریعے کسانوں کو مسلسل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔