Bharat Express DD Free Dish

Uttar Pradesh

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ اور پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ غوطہ خوروں کی مدد سے بچوں کی تلاش جاری ہے۔ گاؤں والوں کی بڑی تعداد بھی موقع پر موجود ہے اور بچاؤ کے کام میں مدد کر رہی ہے۔ انتظامیہ نے راحت اور بچاؤ کا کام تیز کر دیا ہے۔ ابھی تک کوئی لاش برآمد نہیں ہوئی ہے۔

گزشتہ ماہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان کے خلاف ہندوستان کی فوجی کارروائی ’’آپریشن سندور‘‘ سے متاثر ہو کر اترپردیش میں 17 نوزائیدہ لڑکیوں کا نام ان کے والدین نے ’’سندور‘‘ رکھا ہے۔

مہولی روڈ کے ویسٹ پرتاپ نگر واقع رہائشی علاقے میں کانہا آئس فیکٹری ہے۔ اتوار کی صبح اچانک فیکٹری سے امونیا گیس کا اخراج ہونے لگا۔ اس سے پورے علاقے میں افرا تفری مچ گئی۔ سانس لینے میں پریشانی ہونے پر لوگوں نے انتظامیہ کو اطلاع دی۔

کمپنی گرین فیلڈ 2x800 میگاواٹ (1500 میگاواٹ نیٹ) الٹرا سپر کریٹیکل پاور پلانٹ سے 5.383 روپے فی یونٹ کے انتہائی مسابقتی ٹیرف پر بجلی فراہم کرے گی۔

اتر پردیش میں ڈسکام کی نجکاری کوئی اچانک فیصلہ نہیں ہے بلکہ دیرینہ مسائل کا مستقل حل ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف تقسیم کار کمپنیوں کے ڈھانچے میں تبدیلی آئے گی بلکہ ریاست کے لاکھوں صارفین کی زندگیوں میں استحکام، سہولت اور اعتماد بھی آئے گا۔

وزیر اعلیٰ نے IBJA اور تاجروں سے اپیل کی کہ وہ اس سازگار ماحول کا فائدہ اٹھا کر اپنے کاروبار کو نئی بلندیوں تک لے جائیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ جیمز اینڈ جیولرز صنعت نہ صرف یوپی بلکہ پورے بھارت کی معیشت، روزگار اور شناخت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ حکومت تاجروں کے ساتھ کھڑی ہے اور یوپی کو نئی سمت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔

بھارتی فوج کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر گزشتہ رات کی گئی کارروائی کے بعد ملک میں کسی بھی آفت سے نمٹنے کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔

سنٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی اور اتر پردیش الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کے ایک مطالعہ کے مطابق، ریاست کو سال 2033-34 تک تقریباً 10,795 میگاواٹ اضافی تھرمل پاور کی ضرورت ہوگی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فلیٹڈ فیکٹری کمپلیکس ایم ایس ایم ای یونٹس کے لیے ایک بہترین ماڈل ہے، جس سے محدود جگہ میں ملٹی یونٹ صنعتی آپریشن ممکن ہے۔ اس کی کامیاب مثال کانپور میں دیکھی گئی ہے۔

محکمہ سیاحت نے ریاست کے اہم تاریخی ورثے، قدرتی مقامات اور دیگر سیاحتی مقامات کو عالمی پلیٹ فارم پر دکھانے کے لیے بڑی تیاریاں کی ہیں۔