Bharat Express DD Free Dish

Uddhav Thackeray

ادھو ٹھاکرے نے الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقے پر سنگین سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بہار کے لوگ پورے ملک میں سوال پوچھ رہے ہیں کہ مہاراشٹر میں جو کچھ ہوا، وہی اب بہار میں کیوں ہو رہا ہے؟ انتخابات پر سوال اٹھ رہے ہیں، لیکن کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔

 چھوٹی زمینیں، بارش سے چلنے والی زراعت پر انحصار، فصلوں کے نقصانات اور قرضوں کے بوجھ نے ان کی صورتحال کو اور بڑھا دیا ہے۔ ضلع کی زیادہ تر قبائلی آبادی کے نتیجے میں کسانوں کی ایک قابل ذکر تعداد غربت میں زندگی گزار رہی ہے۔

راج ٹھاکرے حال ہی میں 13 سال بعد ادھو ٹھاکرے کی رہائش گاہ ’ماتوشری‘ پہنچے، جہاں انہوں نے ادھو ٹھاکرے کو سالگرہ کی مبارکباد دی۔ اس ملاقات نے سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع کر دیں،

وزیر اعظم نریندر مودی جی کی قیادت میں دیویندر فڑنویس نے مہاراشٹرا کو ترقی کی بے مثال رفتار دی ہے۔ آج اگر ٹیسلا کی کار ہندوستان میں لانچ ہوتی ہے تو اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے سب سے پہلے دیویندر فڑنویس کی تصویر سامنے آتی ہے۔

مرکزی وزیررام داس اٹھاولے نے مہاراشٹر میں ہندی زبان کے تنازعہ پرسخت موقف اختیارکیا ہے۔ انہوں نے غنڈہ گردی میں ملوث افراد کو جیل بھیجنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین ہرشہری کوکہیں بھی رہنے کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے یوپی میں 2026 کے پنچایت اور2027 کے اسمبلی انتخابات میں آرپی آئی کی شرکت کا بھی اعلان کیا۔

دریں اثنا سی ایم فڈنویس نے یہ بھی کہا کہ حالاں کہ ٹھاکرے برادران نے مراٹھی کا جشن منانے کے لیے یہ ریلی کی تھی، تاہم اس ریلی میں ادھو ٹھاکرے نے سیاست کی بات کرنے کا انتخاب کیا۔

راج ٹھاکرے نے کہا کہ جب ہمارے بچے انگلش میڈیم میں جاتے ہیں تو ہماری مراٹھی پر سوال اٹھتے ہیں۔ ایل کے اڈوانی مشنری اسکول میں پڑھے ہیں، تو کیا ان کے ہندوتوا پر سوال اٹھائیں؟ ہم ہندی تھوپنا برداشت نہیں کریں گے۔ وہ صرف ممبئی کو مہاراشٹر سے الگ کرنا چاہتے ہیں، یہی ان کا ایجنڈا ہے۔

ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے نے پہلے مہاراشٹر میں سہ لسانی پالیسی کو لے کر الگ الگ احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ، اب دونوں لیڈران ایک ساتھ ریلی کر رہے ہیں۔ اس دوران، مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے زبان کو لے کر تنازع بڑھنے کے بعد ریاست میں سہ لسانی پالیسی واپس لے لی ہے۔

اب راج اور ادھو ٹھاکرے نے حکومت کو الٹی میٹم دیا ہے۔ دونوں جماعتیں پہلے الگ الگ احتجاج کرنے جا رہی تھیں لیکن اب مل کر کریں گی۔

ناسک میں ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سینئر لیڈر ببن راؤ گھولپ اورسدھاکربڈگجرسمیت کئی لیڈران نے بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔ اس سے آئندہ الیکشن سے پہلے بی جے پی کو مضبوطی ملے گی۔