Bharat Express DD Free Dish

UCC

جمعیۃ علماء ہند حکومت کے اس فیصلے کو نینیتال ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں میں چیلنج کرے گی۔ جمعیت اس کو جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی رہنمائی میں چیلنج کرے گی۔

اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد وزیراعلیٰ پشکرسنگھ دھامی نے بڑا بیان دیا ہے۔ یوسی سی پوری ریاست اتراکھنڈ پرنافذ ہوگا، لیکن اس سے درج فہرست قبائل کوباہر رکھا گیا ہے۔ ساتھ ہی ریاست کے باہر رہنے والے اتراکھنڈ کے باشندوں پربھی یوسی سی نافذ ہوگا۔

واضح رہے کہ ہندوستانی آئین میں گوا کو خصوصی ریاست کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ، پارلیمنٹ نےقانون بنا کر گوا کو پرتگالی سول کوڈ کو لاگو کرنے کا حق دیاتھا۔ لہذا، گوا واحد ریاست ہے جہاں یو سی سی پہلے سے ہی نافذ ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے دہرادون دورے سے ایک دن قبل 27 جنوری کو اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ ہونے جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی اسی دن دوپہر 12:30 بجے سکریٹریٹ میں یو سی سی پورٹل کا افتتاح کریں گے۔

ون نیشن ون الیکشن پر گگوئی نے کہا کہ انہوں نے اس کی حمایت کی ہے۔ گگوئی نے کہا کہ ملک میں ہر سال انتخابات ہوتے ہیں۔ ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ ہر سال لاگو ہوتا ہے۔ اس سے حکومت کا کام متاثر ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کی مختلف ریاستوں میں ہر 6 ماہ بعد انتخابات ہوتے ہیں۔

سی ایم دھامی نے کہا ہے کہ دیو بھومی اتراکھنڈ میں عقیدت مندوں اور سیاحوں کی آمد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہری دوار اور ریشی کیش میں گنگا کوریڈور بنائیں گے۔ شاردا ندی پر ایک کوریڈور بھی بنایا جا رہا ہے، اس پر کافی کام شروع ہو چکا ہے۔

چیف منسٹر پشکر سنگھ دھامی نے 2022 کے اسمبلی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اگر ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت آتی ہے تو یکساں سول کوڈ کو لاگو کیا جائے گا۔ بی جے پی نے بھی اپنے ایجنڈے میں اس انتخابی وعدے کو نمایاں جگہ دی تھی۔

جے ایم ایم کے رہنما اور وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا، "بی جے پی کی ایسی کوئی بھی دال گلنے نہیں دی جائے گی جو سماج کو توڑنے کا ارادہ رکھتی ہو۔"

واضح رہے کہ 78ویں یوم آزادی پر وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کی فصیل سے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کا ذکر کیا تھا۔ پی ایم مودی نے کہا تھا، ہمارے ملک میں سپریم کورٹ نے بار بار یو سی سی کے بارے میں بحث کی ہے۔ کئی بار آرڈر کر چکے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ اس سنگین معاملے پر وسیع بحث ہو، ہر کوئی اپنی رائے سامنے لائے، جو قانون ملک کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے، وہ معاشرے میں تفریق کا سبب بنتا ہے۔ اس طرح کے قانون سے معاشرے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اس لیے میں کہوں گا اور سماج کا مطالبہ ہے کہ ملک میں یکساں سول کوڈ ہو۔