Bharat Express DD Free Dish

Tehreek-e-Taliban Pakistan

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں داخلی سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ جس ٹی ٹی پی کو وجود میں لانے میں پاکستان نے خود اہم کردار ادا کیا تھا، آج وہی ٹی ٹی پی پاکستان کے گلے کا کانٹا بن چکی ہے۔

اسلامی ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان خونریز جھڑپوں میں آج شدت آ گئی۔ پاکستان نے افغان دارالحکومت پر فضائی حملہ کیا جس میں درجنوں افراد مارے گئے۔ طالبان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان میں ڈرون برسائے۔

پاکستان طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ اسے افغانستان کے کچھ ’گروپوں‘ سے خطرہ ہے، جن میں ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) بھی شامل ہیں۔ گزشتہ برسوں میں زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری پاکستانی طالبان، یعنی تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔

پاکستان نے شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے حملوں کے خوف سے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے۔ اسلام آباد نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان پاکستان کے اندر حملے کرنے کے لیے افغانستان کی  سرزمین استعمال کر رہی ہے۔

پاکستان نے بارہا افغانستان کی عبوری حکومت سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروپوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کی درخواست کی ہے۔ حالانکہ، کابل پاکستان کے اس دعوے کو مسترد کرتا رہا ہے۔

  پاکستان کی دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک دہشت گرد کو مقابلے میں ہلاک کرنے کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے اس کی لاش کو جیپ میں باندھ کر شہر بھر میں گھمایا۔ وہیں اس معامہ پر ٹی ٹی پی کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ 10 دنوں …

اقتصادی بحران سے جدوجہد کر رہے پاکستان کی ایک اور مصیبت تحریک طالبان پاکستان کے طور پر سامنے آئی ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ ٹی ٹی پی سے طالبان نمٹے اور اس کے لئے وہ مائنڈ گیم کھیل رہا ہے۔ وہ طالبان کو تختہ پلٹ کا خوف دکھا رہا ہے۔

US Relations With Pakistan: پاکستان میں گزشتہ سال عمران خان کی حکومت گرا دی گئی تھی۔ اپریل 2022 میں ان کو وزیراعظم عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے امریکہ مخالف بیان دیئے۔

وزیراعلیٰ محمود خان نے دہشت گردی کے اس حملے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

پاکستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی نے وقت کو ایک دہائی پیچھے دھکیل دیا ہے۔ آج پاکستان اسی تنظیم کی دہشت گردانہ کارروائیوں پر لگام لگانے کے لیے پریشان ہے جسے وہ کبھی پناہ دیتا تھا۔