Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

دہلی فسادات کے ملزم طاہر حسین کی درخواست پر سماعت منگل (21 جنوری 2025) تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ طاہر کو اے آئی ایم آئی ایم نے دہلی کی مصطفی آباد اسمبلی سیٹ سے ٹکٹ دیا ہے۔ وہ انتخابی مہم کے لیے باہر آنا چاہتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے راہل گاندھی کے خلاف دائر ہتک عزت کے مقدمے میں نچلی عدالت میں چل رہی کارروائی پر اگلے حکم تک روک لگا دی ہے۔ عدالت نے جھارکھنڈ اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ عدالت اس معاملے کی اگلی سماعت 6 ہفتوں کے بعد کرے گی۔

سپریم کورٹ دوسری عرضیوں کوسنتے ہوئے 12 دسمبرکو عبوری حکم جاری کرچکا ہے۔ اس حکم میں پورے ملک کی عدالتوں سے فی الحال مذہبی مقامات کے سروے کا حکم نہ دینے کوکہا گیا تھا۔

بمبئی ہائی کورٹ کے سامنے دو مجرموں کی نمائندگی کرتے ہوئے، مرلی دھر، جو شہری حقوق کے بارے میں اپنے فیصلوں کے لیے جانے جاتے ہیں، نے مہاراشٹرا انسداد دہشت گردی دستہ (اے ٹی ایس) کی تحقیقات میں "تعصب" کا الزام لگایا۔

پیر کو مرکزی وزارت قانون کی طرف سے جسٹس کے ونود چندرن کے بارے میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ 7 جنوری کو سپریم کورٹ کالجیم نے پٹنہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ونود چندرن کے نام کی سفارش مرکزی حکومت سے کی تاکہ انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا جائے۔

منی لانڈرنگ سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ طے شدہ قانون کے خلاف نقطہ نظر پیش کرنے پر مرکز کی سرزنش کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم کسی بھی قیمت پر قانون کے خلاف نقطہ نظر پیش کرنے میں مرکز کے طرز عمل کو برداشت نہیں کریں گے۔

سپریم کورٹ بدھ کو کانگریس لیڈر جے رام رمیش کی درخواست پر سماعت کرے گی، جس میں 1961 کے انتخابی قوانین میں ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ ترمیم انتخابی مواد جیسے CCTV فوٹیج تک عوام کی رسائی کو محدود کرتی ہے جب تک کہ یہ الیکشن کمیشن کے ذریعہ واضح طور پر درج نہ ہو۔

متھرا کے شاہی عیدگاہ اورکرشن جنم بھومی تنازعہ پرسپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پررضامندی ظاہرکی ہے، جس میں سبھی کیسیزکی ایک ساتھ سماعت کی بات کہی گئی تھی۔ عدالت اس معاملے میں یکم اپریل کوسماعت کرے گا۔ تبھی ایک ساتھ ہونے والی سماعت پرفیصلہ ہوسکے گا۔

سنبھل معاملے میں مسجد کمیٹی کی عرضی پر سپریم کورٹ نے یوپی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت عظمیٰ نے حکومت سے رپورٹ مانگی ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے نگرپالیکا کے ذریعہ جاری کئے گئے نوٹس پر روک لگا دی۔ معاملے کی آئندہ سماعت 21 فروری کو ہوگی۔

آج کپل سبل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود کیس کی سماعت نہیں ہو رہی ہے۔ سبل نے کہا کہ ان معاملات میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ دیکھیں اس عدالت میں حکم کے باوجود کیا ہو رہا ہے، اگر ہائی کورٹ ایسا کرے تو شہری کہاں جائیں گے؟