Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

سپریم کورٹ نے لکھنؤ کے جیامئو میں پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت ہاؤسنگ یونٹ کی تعمیرپرروک لگانے کا حکم دیا۔ یہ تنازعہ مختارانصاری کے بیٹے عباس انصاری کے زمین کی ملکیت کے دعوے سے متعلق ہے۔ عدالت نے الہ آباد ہائی کورٹ کواس کیس کی جلد سماعت کرنے کی ہدایت دی ہے۔

جسٹس گوائی نے  اپنے تبصرے میں کہا کہ ریاست کے پاس ان لوگوں کے لیے سارا پیسہ ہے جو کوئی کام نہیں کرتے، جب ہم مالی مجبوریوں کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اس پر بھی نظر ڈالنی چاہیے، جیسے ہی الیکشن آتے ہیں، آپ لاڈلی بہنا اور دوسری نئی خواتین کویاد کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

مسابقتی کمیشن نے سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ ان تمام مقدمات کی سماعت سپریم کورٹ یا ملک کی کسی بھی ہائی کورٹ میں ایک جگہ پر کی جائے۔ کمیشن کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے Amazon-Flipkart کے خلاف ایسی تمام شکایات کو کرناٹک ہائی کورٹ کو بھیج دیا ہے۔

پتھم پور میں یونین کاربائیڈ کے کچرے کو ضائع کرنے کا معاملہ کافی گرمایا ہوا ہے، اس معاملے کو لے کر پتھم پور میں ہنگامہ جاری ہے۔

سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ایس ٹی حسن نے کہا کہ ہمیں اس معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔ میں ایک بات کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر ایسا ہوا تو کچھ لوگوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انتظامی افسران کو غیر قانونی طریقے سے کسی بھی قسم کی تعمیرات نہیں کرانے چاہیے۔

سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ مختار انصاری کی میڈیکل رپورٹ، مجسٹریٹ رپورٹ اور ان کی موت کی عدالتی تحقیقاتی رپورٹ 2 ہفتوں کے اندر عمر انصاری کو فراہم کرے۔

واضح رہے کہ 12دسمبر کو سپریم کورٹ نے ملک بھر میں مذہبی مقامات سے متعلق نئے مقدمات درج کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ زیر التوا مقدمات کی سماعت جاری رہ سکتی ہے۔ لیکن نچلی عدالتوں کو کوئی موثر یا حتمی حکم نہیں دینا چاہیے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے لیڈر رہے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ ملک ہندو مسلم منافرت کی آگ میں پہلے سے ہی جھلس رہا ہے اور بی جے پی کی حکومتیں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے اس میں مزید گھی ڈالنے کا کام کر رہی ہیں، جوکسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ پلیسیزآف ورشپ ایکٹ 1991 کومنسوخ نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسے منسوخ کرنے سے ملک کا ماحول خراب ہوگا۔

دراصل واٹس ایپ نے 2019 میں این ایس او پر مقدمہ کیاتھا اورحکم امتناعی اور ہرجانے کا مطالبہ کرتے ہوئے، کمپنی پر الزام لگایا کہ وہ چھ ماہ قبل متاثرین کے آلات پر پیگاسس اسپائی ویئر انسٹال کرنے کے لیے واٹس ایپ سرورز تک رسائی حاصل کرچکا تھا۔