Bharat Express DD Free Dish

Strategic Partnership

دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ برہموس میزائل کی فروخت سمیت اعلیٰ سطحی دوروں، مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی صنعت میں تعاون نے اس شراکت داری کو نئی سمت دی ہے۔ بحر ہند کے اہم سمندری پڑوسی بھارت اور انڈونیشیا نے 2018 میں ہند-بحرالکاہل خطے میں مشترکہ سمندری وژن اختیار کیا تھا۔ آئی ایف سی-آئی او آر میں انڈونیشیا کے رابطہ افسر کی تعیناتی سے میری ٹائم ڈومین آگاہی کو مزید تقویت ملے گی۔

دونوں ممالک نے خطے کے دیگر ممالک میں سائبر دفاع اور سائبر مزاحمتی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے تکنیکی تعاون کو مربوط بنانے اور پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی کو تیزی سے نافذ کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

وزیراعظم مودی 10 جولائی کو میلبورن میں منعقد ہونے والے تیسرے بھارت۔آسٹریلیا سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق، اجلاس میں سائبر سکیورٹی، سپلائی چین کی مضبوطی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

سنائے تاکائیچی نے کہا کہ وہ بھارت کی ثقافت اور وزیراعظم مودی کی گرمجوش مہمان نوازی کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی کے ساتھ قائم ہونے والے باہمی اعتماد کی بنیاد پر دونوں ممالک آئندہ سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہند-جاپان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھارت کی تیل کمپنیوں، انڈین اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز لمیٹڈ، جاپان کی جاپان آرگنائزیشن فار میٹلز اینڈ انرجی سکیورٹی اور جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے گرین امونیا، ہائیڈروجن، شمسی توانائی اور جوہری توانائی سمیت صاف توانائی کے منصوبوں میں تعاون کو بھی مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

سنائے تاکائیچی نے کہا کہ آئندہ برس ہندوستان اور جاپان کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہوں گے، جسے دونوں ملکوں کے عوام کو مزید قریب لانے کے بہترین موقع کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں ہند-جاپان خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کے تحت دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئے مرحلے تک لے جانا چاہتی ہوں، اور آئندہ دورے پر وزیر اعظم مودی کا جاپان میں خیرمقدم کرنے کی منتظر ہوں۔

ہندوستان اور جاپان کے تعلقات صدیوں پر محیط تہذیبی، ثقافتی اور روحانی روابط پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1952 میں قائم ہوئے، 2000 میں انہیں عالمی شراکت داری، 2006 میں اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری اور 2014 میں خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کا درجہ دیا گیا۔

سنائے تاکائیچی یکم سے 3 جولائی تک تین روزہ سرکاری دورے پر ہندوستان میں ہیں۔ اس دوران وہ 16ویں ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہی ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا اور علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال ہوگا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، اجلاس میں سرمایہ کاری، اختراع، سیمی کنڈکٹرز، اہم معدنیات، اقتصادی سلامتی، دفاعی ٹیکنالوجی، بحری سلامتی، مصنوعی ذہانت، دواسازی، بیٹری ٹیکنالوجی، توانائی کے شعبے، اوڈیشہ میں گرین امونیا منصوبے، بایو گیس اور POWERR Asia کے تحت علاقائی تعاون جیسے موضوعات پر پیش رفت متوقع ہے۔

بھارت روانگی سے قبل جاپانی وزیراعظم نے کہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ تزویراتی شراکت داری، اقتصادی سلامتی، سرمایہ کاری، اختراع اور ہند-بحرالکاہل خطے میں امن و استحکام پر تبادلۂ خیال ہوگا۔