Bharat Express DD Free Dish

Strategic Partnership

وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اس دورے کے دوران ہونے والے 18 اہم فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت اور آسٹریلیا مستقبل کو اعتماد کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ترقی، اختراع اور مشترکہ خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

’میلبورن میٹس مودی‘ تقریب میں بھارتی نژاد افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز اور ریاست وکٹوریہ کی پریمیئر جیسنٹا ایلن بھی موجود تھیں۔ جیسنٹا ایلن نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ بھارت کے عوام اور ان کی اقدار کا بے حد احترام کرتی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط مستقبل میں مزید مستحکم ہوں گے۔

شترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 2020 میں قائم ہونے والی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے بعد دونوں ممالک کے اسٹریٹجک، اقتصادی اور عوامی روابط مسلسل مستحکم ہوئے ہیں۔ بھارت اور آسٹریلیا نے کواڈ سمیت مختلف علاقائی اور کثیرالجہت پلیٹ فارمز پر اپنے تعاون کو خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات میں کرکٹ ایک سفارتی زبان کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے برسوں میں دونوں ممالک اولمپک اور دولتِ مشترکہ کھیلوں جیسے بڑے عالمی مقابلوں کی میزبانی کریں گے، جس سے نہ صرف کھیلوں کے میدان میں تعاون بڑھے گا بلکہ اسپورٹس انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

دونوں ممالک ہند-بحرالکاہل خطے میں قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھر رہے ہیں اور آزاد، محفوظ اور خوشحال ہند-بحرالکاہل کے قیام کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ کواڈ جیسے کثیر جہتی پلیٹ فارمز پر بھی دونوں ممالک کا اشتراک علاقائی استحکام اور عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد البانیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک سیلفی شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مل کر اپنی معیشتوں کو مضبوط بنا رہے ہیں اور آسٹریلوی و بھارتی کاروباری اداروں کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔

مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی حمایت کی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت توسیع پسندی نہیں بلکہ ترقی کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے اور ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کے اصول پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نئی دہلی اور جکارتہ کے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ ہے، لیکن دونوں ممالک کو جدا کرنے والا سمندر درحقیقت انہیں جوڑنے والا ایک مضبوط پل ہے، جو مستقبل میں بھی ان کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا پائیدار زراعت اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک دوسرے کے بہترین تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی ٹیکنالوجی کی صدی ہے اور دونوں ممالک کے نوجوان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا کہ بھارت کے ممتاز تعلیمی ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) بنگلورو کا کیمپس انڈونیشیا میں قائم کیا جائے گا، جس سے پورے آسیان خطے کے نوجوان مستفید ہوں گے۔