Urdu Conclave 2026

Pak-Saudi-Turkey Defence Pact: ’’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا‘‘ مغربی ایشیا تنازع کے درمیان پاکستان، سعودی اور ترکی نے اہم دفاعی معاہدے پر کیے دستخط

یہ معاہدہ سعودی عرب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردگان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔ یہ دفاعی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب نے ایران سے متعلق جاری تنازع کے دوران متعدد حملوں کا سامنا کرنے کے بعد اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو مزید وسیع کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔

اسلام آباد: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے جمعہ کو ایک اہم دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مغربی ایشیا میں تنازع شدت اختیار کر رہا ہے۔ ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ کے عنوان سے ہونے والے اس سمجھوتے کا مقصد خطے میں بڑھتے ہوئے سلامتی کے خطرات کے درمیان تینوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ تینوں ممالک کی سربراہ کانفرنس کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے اور اس میں یہ طے کیا گیا ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک کے خلاف کوئی بھی مسلح حملہ سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔‘‘ بیان کے مطابق معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید وسعت دینے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

محمد بن سلمان، اردگان اور شہباز شریف کی ملاقات میں معاہدہ

یہ معاہدہ سعودی عرب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردگان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔ یہ دفاعی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب نے ایران سے متعلق جاری تنازع کے دوران متعدد حملوں کا سامنا کرنے کے بعد اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو مزید وسیع کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔ حوثی اور عراقی ملیشیا گروپ سمیت ایران اور اس کے علاقائی حلیفوں کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں میں سعودی عرب کے اہم بنیادی ڈھانچے اور پٹرولیم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا گیا ہے۔

ترکی اور اسرائیل کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ

یہ معاہدہ ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے جب غزہ اور خطے میں جاری وسیع تر کشیدگی کے معاملے پر ترکی اور اسرائیل کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ اس میں ایران اور لبنان سے متعلق جاری تنازعات بھی شامل ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں ایک وسیع تر اتحاد کے قیام کے امکانات کے بارے میں سفارتی اور اسٹریٹجک حلقوں میں قیاس آرائیاں مزید تیز ہوگئی ہیں۔ اسے بعض حلقوں میں ’’اسلامک نیٹو‘‘ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ رائٹرز نے اس معاملے سے براہِ راست واقف دو علاقائی ذرائع کے حوالے سے پہلے اطلاع دی تھی کہ مسلم اکثریتی تین اہم ممالک اپنے دفاعی انضمام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے باضابطہ اقدامات کرنے والے ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے گزشتہ سال کے معاہدے کی توسیع

تین طرفہ معاہدہ گزشتہ سال قائم کیے گئے پاکستان اور سعودی عرب کے دو طرفہ سکیورٹی فریم ورک کی بنیاد پر آگے بڑھایا گیا ہے۔ اس وقت وزیر اعظم شہباز شریف کے سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران ریاض میں ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ مذاکرات کے بعد پاکستان اور سعودی عرب نے ’’اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں بھی یہ عہد کیا گیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے مئی میں پاکستانی میڈیا ادارے ہم نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان موجود دفاعی تعاون میں ترکی اور قطر جیسے ممالک کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا تھا کہ خطے میں امن کو فروغ دینے کے لیے ایک علاقائی ڈھانچہ تشکیل دینے پر بات چیت جاری ہے اور اس کا مقصد کسی مخصوص غیر ملکی طاقت کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان پہلے سے موجود معاہدے میں قطر اور ترکی بھی شامل ہوتے ہیں تو یہ خطے کے لیے خوش آئند ہوگا، کیونکہ اس طرح علاقائی ممالک کے درمیان اقتصادی اور دفاعی تعاون قائم ہوگا اور خطے سے باہر کے ممالک پر انحصار کم کیا جا سکے گا۔ خواجہ آصف نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ یہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں ہے، تاہم خطے میں امن کے تحفظ کے لیے یہ انتہائی اہم ہے۔

بھارت کی جانب سے بھی پیش رفت پر گہری نظر

خطے میں تیزی سے بدلتے سکیورٹی حالات پر عالمی طاقتوں کے ساتھ ساتھ بھارت کی بھی گہری نظر ہے۔ گزشتہ سال اسلام آباد اور ریاض کے درمیان ابتدائی دو طرفہ معاہدے کے بعد نئی دہلی نے کہا تھا کہ وہ اس کے اسٹریٹجک اثرات کا جائزہ لے رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک سرکاری ردعمل میں کہا تھا کہ نئی دہلی نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ’’طویل عرصے سے موجود انتظام‘‘ کو باضابطہ شکل دیے جانے کا نوٹس لیا ہے، تاہم حکومت اس پیش رفت کے اثرات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی استحکام پر اس پیش رفت کے اثرات کا جائزہ لے گی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ حکومت ہندوستان کے قومی مفادات کے تحفظ اور تمام شعبوں میں جامع قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read