Bharat Express DD Free Dish

Strategic Partnership

انڈونیشیائی صدر نے بھارت کے انتخابی نظام اور جمہوری عمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک بھارت کے الیکشن کمیشن سے بہت کچھ سیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد آبادی، مختلف نسلوں، زبانوں اور ثقافتوں کے باوجود بھارت میں پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ صدر سوبیانتو نے کہا کہ وہ بھارت کی اس کامیاب جمہوری روایت اور اس کی نمایاں کامیابیوں کا مسلسل مطالعہ کر رہے ہیں اور ان سے رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو نے ملاقات کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سمندری تعاون، توانائی، صحت، ادویات، خلائی تحقیق، نایاب معدنیات، سیاحت، ثقافت اور عوامی روابط سمیت جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا۔

مشترکہ بیان کے مطابق سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے خلائی تحقیق میں جاری شراکت داری کا جائزہ لیا اور پرامن مقاصد کے لیے خلا کے استعمال سے متعلق اپنے معاہدے میں توسیع کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا صدیوں پرانے تہذیبی، ثقافتی اور عوامی روابط سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، آزاد اور ضابطہ پر مبنی ہند-بحرالکاہل کے فروغ اور باہمی تعاون کے نئے باب کے آغاز کے عزم کا اعادہ کیا۔ 

وزیراعظم نے انڈونیشیا میں مقیم بھارتی برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بالی ووڈ کی مشہور فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کا گیت انڈونیشیا میں بے حد مقبول ہے، لیکن جب بھارت اور انڈونیشیا مل کر آگے بڑھتے ہیں تو صرف ’’کچھ کچھ‘‘ نہیں بلکہ ’’بہت کچھ‘‘ ہوتا ہے۔

وزیراعظم مودی نے ایکس پر لکھا: ’’میں جمہوریہ انڈونیشیا کے اعلیٰ ترین اعزاز ’بنتانگ آدی پورنا‘ کو انتہائی عاجزی کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔ یہ اعزاز ہندوستان کے عوام کا ہے۔ یہ انڈونیشیا کے عوام کی محبت اور خیرسگالی کا مظہر ہے اور ہمارے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور گہرے تعلقات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان قدیم سمندری روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر کبھی فاصلے کی علامت نہیں رہا بلکہ ہمیشہ دونوں قوموں کو جوڑنے والا ایک مضبوط پل ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر نے ہمیشہ ہمیں قریب لانے کا کام کیا ہے اور آئندہ بھی ہمارا مشترکہ مستقبل اسی سے وابستہ ہے۔‘‘ 

وزیراعظم آسٹریلیا میں ایک بڑے کمیونٹی پروگرام سے بھی خطاب کریں گے۔ آسٹریلیا میں تقریباً دس لاکھ بھارتی نژاد افراد آباد ہیں اور یہ ملک کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی تارکینِ وطن برادریوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بھارتی برادری کو دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک مضبوط ستون تصور کیا جاتا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق ڈاکٹر ایس جے شنکر 5 سے 10 جولائی تک قطر، بحرین، کویت اور عمان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ اس دورے کا مقصد ان ممالک کے ساتھ بھارت کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا، علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کرنا اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تعاون کو فروغ دینا ہے۔

یہ وزیر اعظم مودی کے تین ملکی دورے کا پہلا مرحلہ ہے، جس کے بعد وہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ انڈونیشیا کے صدر پربوو سوبیانتو نے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔ اس دورے میں دفاع، تجارت، سمندری تعاون اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری پر گفتگو کی توقع ہے۔