Bharat Express DD Free Dish

Sri Lanka Cricket Team

سری لنکا کے اسٹار آل راؤنڈر دھننجے ڈی سلوا نے ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ خود دھننجے ڈی سلوا نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اب کپتانی کی ذمہ داری اگلی نسل کو سونپنے کا وقت آگیا ہے۔

پہلے ٹیسٹ میں بھارتی ٹیم نے 165 رنز سے شاندار کامیابی حاصل کی تھی، اس لیے شبمن گل کی قیادت میں ٹیم انڈیا سیریز 2-0 سے اپنے نام کرنے کے ارادے سے میدان میں اترے گی۔

بھارت کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے مقابلے کے لیے سری لنکا نے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اسٹار بلے باز کوسل مینڈس اور پاتھم نسانکا پہلے ٹیسٹ میں ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔ پہلا ٹیسٹ 15 اگست سے گال میں کھیلا جائے گا۔ سری لنکا کی قیادت آل راؤنڈر دھننجیا ڈی سلوا کریں گے۔

مالی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر جافنا کنگز کا فرنچائز کا معاہدہ ختم کر دیا گیا ہے، منجوت کالرا کی گرفتاری کے بعد ایس ایل سی اور آئی پی جی نے ٹیم کے تمام انتظامی و مالی امور اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں جبکہ  بتایا گیا ہے کہ  ٹورنامنٹ شیڈول کے مطابق جاری رہے گا۔

ہندوستان اورپاکستان کا میچ 15 فروری کوہونا ہے، لیکن پاکستانی وزیراعظم نے اعلان کردیا ہے کہ ان کی ٹیم یہ میچ نہیں کھیلے گی۔ اب سری لنکا کرکٹ بورڈ نے اس مسئلے پرپی سی بی کوای-میل لکھا ہے۔

آئی سی سی نے سری لنکا کے 11 کھلاڑیوں کو سخت سزا سنائی ہے۔ ان کھلاڑیوں کوآئی سی سی کی ضابطہ اخلاق کے کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.22 کے تحت قصوروارپایا گیا ہے۔

ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 27 جولائی کو کھیلا جائے گا۔ اس کے بعد دوسرا ٹی20 میچ اگلے دن یعنی 28 جولائی کو کھیلا جائے گا اور تیسرا اور آخری ٹی 20 میچ 30 جولائی کو کھیلا جائے گا۔

ٹی 20 سیریز کے بعد ہندوستانی ٹیم سری لنکا میں ون ڈے سیریز کھیلے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان تین ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی۔ ون ڈے سیریز کا پہلا میچ 2 اگست کو کھیلا جائے گا۔

مہیلا جے وردھنے نے 2014 میں اپنے کرکٹ کیریئر کو الوداع کہا، اگلے ہی سال وہ انگلینڈ کی ٹیم میں بطور بیٹنگ کنسلٹنٹ شامل ہوئے۔

قرارداد میں سری لنکا کرکٹ کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس کی حکمران اور اپوزیشن دونوں جماعتوں نے حمایت کی۔ آئی سی سی نے نتیجہ اخذ کیا کہ سری لنکا کرکٹ بطور رکن اپنی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی کر رہی ہے۔ اسے اپنے تمام معاملات کو آزادانہ طور پر چلانے کی ضرورت ہے۔