Bharat Express DD Free Dish

Social Media

وزیر داخلہ امت شاہ نے ملک کی معیشت کو نئی سمت دینے والے اہم اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی جیسے بڑے فیصلوں کے دوران ارون جیٹلی نے جس مہارت کے ساتھ پالیسیوں کو نافذ کرنے میں کردار ادا کیا، وہ ان کی غیر معمولی انتظامی صلاحیت کا ثبوت ہے۔

میٹنگ کے اہم ایجنڈے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر ملک بھر میں منعقد کیے جانے والے پروگراموں کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔ نریندر مودی نے 7 اکتوبر 2001 کو پہلی مرتبہ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل کسی نہ کسی عوامی عہدے پر فائز رہے ہیں۔

اس سے قبل 14 اگست کو وزیر اعظم نے تقسیم کی ہولناکیوں کی یاد کے دن بھی سوشل میڈیا پر پیغام شیئر کیا تھا۔ انہوں نے ان تمام شہریوں کو خراج عقیدت پیش کیا تھا جنہوں نے تقسیم کے المناک دور سے گزرنے کے باوجود اپنی ہمت اور صلاحیت کے ذریعے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔وزیر اعظم نے کہا تھا کہ مشکل حالات میں بھی عزم کو کامیابی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

اروند کیجریوال نے اپنے بیان میں آزادیٔ ہند کے عظیم انقلابی شہید بھگت سنگھ اور آئین ساز ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج بھگت سنگھ زندہ ہوتے تو وزیر اعظم انہیں بھی دِماغی نکسل قرار دے دیتے۔ اسی طرح اگر بابا صاحب امبیڈکر آج زندہ ہوتے، جنہوں نے ملک میں سب کی برابری کے لیے جدوجہد کی، تو کیجریوال کے مطابق انہیں بھی دِماغی نکسل کہنے سے نہیں بخشا جاتا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سابق وزیر اعظم کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اٹل جی غیر معمولی بصیرت رکھنے والے ایک عظیم سیاست داں تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی ملک کی خدمت کے لیے وقف کردی۔

امت شاہ کے مطابق کشابھاؤ ٹھاکرے نے بھارتیہ جن سنگھ کے دور سے لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی کے پھیلاؤ تک طویل عرصے تک تنظیم کے لیے کام کیا۔ انہوں نے کئی نسلوں کے کارکنوں کی رہنمائی کی اور انہیں سیاسی و سماجی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اسی وجہ سے پارٹی کے اندر کشابھاؤ ٹھاکرے کو صرف ایک سیاسی رہنما کے طور پر نہیں بلکہ ایک سرپرست، مربی اور رہنما کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

وزیر داخلہ امت شاہ  کے مطابق اروند گھوش نے ہندوستانیوں کو غیر ملکی حکمرانی کے خلاف متحد ہوکر کھڑے ہونے کی ترغیب دی۔ انہوں نے آزادی کو محض ایک سیاسی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھا ،بلکہ اسے ملک کے خود اعتمادی، قومی بیداری اور روحانی جاگرتی سے بھی جوڑا۔اروند گھوش کی تحریروں اور خیالات میں بھارت کی آزادی کے ساتھ ساتھ اس کی تہذیبی، ثقافتی اور روحانی شناخت پر بھی خاص زور نظر آتا ہے۔

وزیر اعظم کے پیغام میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تقسیم کے سانحے کو یاد کرنے کا مقصد معاشرے میں نفرت پیدا کرنا نہیں، بلکہ تاریخ سے سبق حاصل کرنا اور باہمی اتحاد و خیرسگالی کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی یکجہتی اور سالمیت کو برقرار رکھنا ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے

نصیرالدین شاہ جیسے ’لومڑی‘ بننے کے بجائے کتا کہلانا پسند کریں گی۔کنگنا کا یہ بیان نصیرالدین شاہ کے اس تبصرے کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ملک میں جاری احتجاج اور طلبہ تحریکوں کے دوران بالی ووڈ کی بڑی شخصیات کی خاموشی پر سوال اٹھایا تھا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کو شارٹ کٹ کی ذہنیت سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ریلوے اسٹیشنوں پر لکھے جانے والے جملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ پل استعمال کرنے کے بجائے پٹری عبور کرکے شارٹ کٹ اختیار کرتے ہیں، جب کہ وہاں واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ ’’شارٹ کٹ آپ کی زندگی مختصر کر سکتا ہے۔‘‘مودی نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ شارٹ کٹ کی سوچ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی پسند کے عظیم شخصیات کی سوانح عمری ضرور پڑھنی چاہیے۔