Bharat Express DD Free Dish

Social Media

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سابق وزیر اعظم کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اٹل جی غیر معمولی بصیرت رکھنے والے ایک عظیم سیاست داں تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی ملک کی خدمت کے لیے وقف کردی۔

امت شاہ کے مطابق کشابھاؤ ٹھاکرے نے بھارتیہ جن سنگھ کے دور سے لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی کے پھیلاؤ تک طویل عرصے تک تنظیم کے لیے کام کیا۔ انہوں نے کئی نسلوں کے کارکنوں کی رہنمائی کی اور انہیں سیاسی و سماجی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اسی وجہ سے پارٹی کے اندر کشابھاؤ ٹھاکرے کو صرف ایک سیاسی رہنما کے طور پر نہیں بلکہ ایک سرپرست، مربی اور رہنما کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

وزیر داخلہ امت شاہ  کے مطابق اروند گھوش نے ہندوستانیوں کو غیر ملکی حکمرانی کے خلاف متحد ہوکر کھڑے ہونے کی ترغیب دی۔ انہوں نے آزادی کو محض ایک سیاسی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھا ،بلکہ اسے ملک کے خود اعتمادی، قومی بیداری اور روحانی جاگرتی سے بھی جوڑا۔اروند گھوش کی تحریروں اور خیالات میں بھارت کی آزادی کے ساتھ ساتھ اس کی تہذیبی، ثقافتی اور روحانی شناخت پر بھی خاص زور نظر آتا ہے۔

وزیر اعظم کے پیغام میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تقسیم کے سانحے کو یاد کرنے کا مقصد معاشرے میں نفرت پیدا کرنا نہیں، بلکہ تاریخ سے سبق حاصل کرنا اور باہمی اتحاد و خیرسگالی کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی یکجہتی اور سالمیت کو برقرار رکھنا ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے

نصیرالدین شاہ جیسے ’لومڑی‘ بننے کے بجائے کتا کہلانا پسند کریں گی۔کنگنا کا یہ بیان نصیرالدین شاہ کے اس تبصرے کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ملک میں جاری احتجاج اور طلبہ تحریکوں کے دوران بالی ووڈ کی بڑی شخصیات کی خاموشی پر سوال اٹھایا تھا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کو شارٹ کٹ کی ذہنیت سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ریلوے اسٹیشنوں پر لکھے جانے والے جملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ پل استعمال کرنے کے بجائے پٹری عبور کرکے شارٹ کٹ اختیار کرتے ہیں، جب کہ وہاں واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ ’’شارٹ کٹ آپ کی زندگی مختصر کر سکتا ہے۔‘‘مودی نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ شارٹ کٹ کی سوچ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی پسند کے عظیم شخصیات کی سوانح عمری ضرور پڑھنی چاہیے۔

اتر پردیش کے ہمیرپور میں چندوپور کے گنگوا کا ڈیرہ اور بچی کا ڈیرہ علاقوں کے طلبہ طویل عرصے سے سڑک نہ ہونے کی پریشانی کا سامنا کر رہے تھے۔ بارش کے موسم میں کیچڑ سے بھرے راستے پر اسکول جانا بچوں کے لیے خطرناک بن گیا تھا۔ اس مسئلے کے خلاف طلبہ اور مقامی افراد ترنگا ہاتھوں میں لے کر ضلع کلکٹریٹ پہنچے۔

طلبہ کے احتجاج اور مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کو لے کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس معاملے پر پارلیمنٹ کی کارروائی بھی بار بار متاثر ہوئی ہے۔ اپوزیشن حکومت سے وضاحت طلب کر رہی ہے، جب کہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی بھی وزیر داخلہ امت شاہ سے جواب دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

وزیراعظم کی جانب سے مسلسل سنسکرت شلوک اور ان کے مفاہیم شیئر کرنے کا مقصد قدیم بھارتی علمی اور اخلاقی روایات میں موجود انسانی اقدار، نیک کردار، علم، خدمت اور پرہیزگاری جیسے پیغامات کو عوام تک پہنچانا ہے۔

اتوار کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ہوئی ملاقات کے دوران مودی نے میرابائی سے ان کے رونے کی وجہ پوچھتے ہوئے کہا، ’’اتنے آنسو ٹپک رہے تھے کہ مجھے لگ رہا تھا جیسے آنسو کے ہر قطرے سے گولڈ میڈل نکل رہا ہو۔‘‘اس پر میرابائی نے بتایا کہ پیرس اولمپکس میں تمغہ نہ جیت پانے کی وجہ سے وہ کافی مایوس ہوئی تھیں اور گزشتہ چار برسوں کے دوران انہوں نے بہت کچھ برداشت کیا ہے۔بھارتی ویٹ لفٹر نے کہا، ’’میں اس دن بہت خوش اور جذباتی تھی۔