Bharat Express DD Free Dish

Social Media

وزیراعظم نریندر مودی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا، ’’11 ستمبر 1893، شکاگو۔ سوامی وویکانند کی دل کو چھو لینے والی تقریر نے بھارت کی تہذیبی ثقافت کی جھلک پیش کی۔ ان کے متاثر کن الفاظ آج بھی پوری دنیا میں گونجتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر عرشفہ خان کی مقبولیت ان کے کیریئر کی سب سے بڑی خصوصیات میں سے ایک رہی ہے۔ موجودہ کریئیٹر اینالیٹکس کے مطابق، ان کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد تقریباً 29 ملین ہے، جو کئی برسوں میں ان کی جانب سے تیار کیے گئے بڑے ناظرین اور مداحوں کے حلقے کو ظاہر کرتی ہے۔

اسے قدرت، انسان اور پوری کائنات کے درمیان توازن اور فلاح و بہبود کے جذبے سے جڑی پرارتھناکے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ویدک روایت میں قدرت کو زندگی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ ہوا، سورج کی روشنی اور پانی کے بغیر انسانی زندگی اور زراعت کا تصور مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس منتر میں قدرت کی ان طاقتوں کے سازگار اور فلاح بخش رہنے کی دعا کی گئی ہے۔

وزیر اعظم کے مشورے کے بعد کئی مرکزی وزرا نے اپنے سوشل میڈیا پروفائلز پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر سرگرمی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کئی مرکزی وزرا نے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں اپنی پوسٹنگ میں تقریباً 50 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔

ابھیجیت دیپکے انسٹاگرام لائیو کے دوران پنجاب کے سرکاری اسکولوں کے معائنے کا مطالبہ سن کر غیر آرام دہ ہوگئے۔ ایک صارف کے سوال اور ابھیجیت دیپکے کے جواب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

سوشل میڈیا پراب اس اشتہار سے متعلق یوزرس (صارفین) الگ الگ گروپ میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ ایک طبقہ اداکارہ کے ڈریس سے متعلق انہیں ٹرول کررہا ہے جبکہ کئی لوگوں نے کریتی سینن کی حمایت کی ہے۔ اسی فہرست میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کا نام بھی شامل ہوگیا ہے۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے ملک کی معیشت کو نئی سمت دینے والے اہم اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی جیسے بڑے فیصلوں کے دوران ارون جیٹلی نے جس مہارت کے ساتھ پالیسیوں کو نافذ کرنے میں کردار ادا کیا، وہ ان کی غیر معمولی انتظامی صلاحیت کا ثبوت ہے۔

میٹنگ کے اہم ایجنڈے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر ملک بھر میں منعقد کیے جانے والے پروگراموں کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔ نریندر مودی نے 7 اکتوبر 2001 کو پہلی مرتبہ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل کسی نہ کسی عوامی عہدے پر فائز رہے ہیں۔

اس سے قبل 14 اگست کو وزیر اعظم نے تقسیم کی ہولناکیوں کی یاد کے دن بھی سوشل میڈیا پر پیغام شیئر کیا تھا۔ انہوں نے ان تمام شہریوں کو خراج عقیدت پیش کیا تھا جنہوں نے تقسیم کے المناک دور سے گزرنے کے باوجود اپنی ہمت اور صلاحیت کے ذریعے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔وزیر اعظم نے کہا تھا کہ مشکل حالات میں بھی عزم کو کامیابی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

اروند کیجریوال نے اپنے بیان میں آزادیٔ ہند کے عظیم انقلابی شہید بھگت سنگھ اور آئین ساز ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج بھگت سنگھ زندہ ہوتے تو وزیر اعظم انہیں بھی دِماغی نکسل قرار دے دیتے۔ اسی طرح اگر بابا صاحب امبیڈکر آج زندہ ہوتے، جنہوں نے ملک میں سب کی برابری کے لیے جدوجہد کی، تو کیجریوال کے مطابق انہیں بھی دِماغی نکسل کہنے سے نہیں بخشا جاتا۔