Bharat Express DD Free Dish

Sharad Pawar

این سی پی (ایس) لیڈر شرد پوار نے ایک بار پھر انتخابی نشان کو لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ شرد پوار نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی طرف سے اجیت پوار کو جاری کردہ انتخابی نشان کے استعمال پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھو ٹھاکرے نے کہا، "موہن بھاگوت جی  کیا آپ بی جے پی کے ہندوتوا سے اتفاق کرتے ہیں؟ اس بی جے پی میں غنڈے آرہے ہیں، کرپٹ لوگ آرہے ہیں۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟ امت شاہ مجھے ختم کرنے آرہے ہیں۔ اور شرد پوار کیا آپ ہمیں ختم ہونے دیں گے؟"

درحقیقت حالیہ دنوں میں مہاوکاس اگھاڑی میں سیٹوں کی تقسیم میں تاخیر پر کافی بیان بازی ہوئی تھی۔ ادھو ٹھاکرے خیمہ کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے تاخیر کے لیے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس پر 'مصروف' ہونے کا الزام لگایا تھا۔

مہاوکاس اگھاڑی میں ممبئی کی سیٹوں پرمعاملہ پھنستا ہوا نظرآرہا ہے۔ کانگریس 36 میں سے 18، ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا 20 اوراین سی پی شرد پوارگروپ کی جانب سے 7 سیٹوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اجیت پوار کا درد ایک بار پھر سامنے آیا ہے، وہ پرانا زخم جس نے خاندان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔ گڑھ چرولی میں میٹنگ میں اجیت پوار نے خاندان کو سیاست سے بالاتر قرار دیا اور اپنے وزیر کی بیٹی کو سمجھایا کہ خاندان کو توڑنے کی غلطی سماج کو پسند نہیں ہے۔

گزشتہ دنوں مرکزی حکومت نے مہاراشٹرکے سابق وزیراعلیٰ شرد پوارکوزیڈ پلس سیکورٹی دی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے اس سیکورٹی سے متعلق مرکزی حکومت پرطنزکیا ہے۔

دراصل، شیو سینا، یو بی ٹی، کانگریس اور شرد پوار کی پارٹی مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) نے بدلا پور کے اسکول میں دو لڑکیوں کے ساتھ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعہ کو لے کر ہفتہ کو مہاراشٹر بند کی کال دی تھی۔

پوار نے کہا ہے کہ انہیں دی گئی زیڈ پلس سیکورٹی ان کے بارے میں "مستند معلومات" حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتی ہے کیونکہ مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔

مرکزی وزارت داخلہ نے سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کو 83 سالہ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ شرد پوار کو یہ سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کام کے لیے سی آر پی ایف کے 55 مسلح اہلکاروں کی ٹیم کو مقرر کیا گیا ہے۔

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ الیکشن کمیشن آج پریس کانفرنس کریں گے، میں کہتا ہوں، مہاراشٹر کی تاریخوں کا بھی آج ہی اعلان کریں۔ ہم الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہیں۔