Bharat Express DD Free Dish

Sharad Pawar

راج ٹھاکرے نے کہا، "شرد پوار نے مہاراشٹر میں ذات پات کی سیاست شروع کی۔ انہوں نے سماج میں نفرت اور تفرقہ پھیلانے کے لیے ذات پات کی بنیاد پر سیاست کرنا شروع کی۔

سپریم کورٹ نے بدھ کے روز اجیت پوار کے گروپ کی این سی پی کو 36 گھنٹے کے اندر بڑے اخبارات میں گھڑی کے انتخابی نشان کے ساتھ اعلانیہ شائع کرنے کا حکم دیا۔

اس سال کے شروع میں اجیت پوار نے این سی پی لیڈر شرد پوار کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اس عمر میں انہیں گھر پر رہنا چاہیے، یہ نہیں معلوم کہ وہ کب ریٹائر ہوں گے۔ جس کے بعد شرد پوار نے بھی جوابی حملہ کیا۔اور اب الیکشن سے ٹھیک پہلے شرد پوار نے ریٹائرمنٹ کا اشارہ کرکے شرد پوار کیلئے ایک دروازہ بھی کھول دیا ہے۔

این سی پی کے سربراہ اجیت پوار  پونے ضلع کی بارامتی اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ وہ اپنے بھتیجے اور این سی پی (ایس پی) کے امیدوار یوگیندر پوار سے مقابلہ کر رہے ہیں۔

بڑی پارٹیوں میں، کانگریس اور پھر این سی پی اجیت خیمہ نے اس بار مسلم امیدواروں کو زیادہ سیٹیں دی ہیں، حالانکہ ان کی تعداد بھی کم ہے۔ کانگریس نے 4 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے

شرد پوار نے بارامتی اسمبلی سیٹ پر اجیت پوار کے خلاف یوگیندر پوار کو میدان میں اتارا ہے۔ یوگیندر پوار شرد پوار کے پوتے اور اجیت پوار کے بھائی سری نواس پوار کے بیٹے ہیں۔

مہا وکاس اگھاڑی کی تقریباً 15 سیٹوں پر کانگریس اور شیوسینا کے درمیان ٹکراؤ ہے۔ اس کے حل کے لیے ایم وی اے کی آج یعنی منگل کو دوپہر ایک بجے میٹنگ ہوگی۔

شرد پوار نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک وہ مہاراشٹر کو صحیح راستے پر نہیں لاتے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ جب تک وہ اس کام کو مکمل کرتے ہیں ان کی عمر کتنی ہوتی ہے۔

شرد پوار انتخابات سے متعلق ایک پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے اسٹیج سے خطاب کرتے ہوئے ایک واقعہ کا ذکر کیا اور کہا کہ کچھ نوجوان لڑکے ہاتھوں میں تختیاں لیے کھڑے تھے۔ لڑکوں کی بات یہ تھی کہ اب شرد پوار بوڑھے ہو گئے ہیں اور انہیں سیاست چھوڑ دینی چاہیے۔ اس سلسلے میں شرد پاور کا یہ بیان آیا ہے۔

ذرالئع کے مطابق اویسی کی پارٹی نے مہاوکاس اگھاڑی کو 28 سیٹوں کی فہرست دی ہے۔ یہ تمام 28 سیٹیں مسلم اکثریتی علاقوں کی ہیں،مسلم ووٹر یہاں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔