Bharat Express DD Free Dish

Shahbaz shareef

دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کو لکھے گئے اس کھلے خط پر دستخط کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی نوجوان نسل جاری کشیدگی کی سب سے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اس سے ان کے مواقع، ترقی اور محفوظ مستقبل متاثر ہو رہی ہے۔ ہندوستانی حکومت نے گزشتہ سال پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ تمام بات چیت معطل کر دی تھی۔ پاکستان کے ساتھ اب کوئی سیاسی، تجارتی یا سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد میں ہوا، تاہم اس بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور دونوں فریقوں کے درمیان یہ ملاقات ناکام رہی۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی اسلام آباد میں ہونے کی امید ہے۔ اس درمیان پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بدھ کو سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کے دورے پر جا رہے ہیں۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے نوبل امن انعام کمیٹی کو ایک سفارش نامہ بھی ناروے بھجوا دیا گیا ہے۔ تاہم، ایران کے فردو، اصفہان اور نطنز جوہری مقامات پر امریکی حملوں کے بعد اس فیصلے پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔

کچھ صارفین نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو دیے جانے والے بیل آؤٹ فنڈز کی جانچ کرے، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ فنڈز دہشت گردی کی حمایت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

پاک مقبوضہ کشمیر(پی اوکے) کے 13 حلقوں میں خوراک، ادویات اوردیگرتمام بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے ایک ارب روپئے کا ہنگامی فنڈ بنایا گیا ہے۔

امریکہ نے مذاکرات میں دونوں ممالک سے علاقائی امن برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا اور بھارتی وزیر خارجہ اور پاکستانی وزیراعظم دونوں سے کہا کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ایک دوسرے سے بات کریں تاہم بھارت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات میں پاکستان سے تعاون کا مطالبہ کیا۔

2 جولائی 1972 کو ہندوستان کے شہر شملہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس وقت ہندوستان کی وزیراعظم اندرا گاندھی اور پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی اور خطے میں دیرپا امن کا قیام تھا۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ جادھو را (ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ) کا ایجنٹ ہے اور بلوچ باغیوں کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ ہندوستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'جادھو کاروبار کے لیے ایران گیا تھا اور اسے وہاں سے غیر قانونی طور پر اٹھایا گیا تھا۔

یہ نیا اقدام صدر ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران لگائی گئی پابندیوں کی یاد دلاتا ہے، جب انہوں نے سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر سفری پابندی عائد کی تھی۔ یہ پالیسی مختلف مراحل سے گزری اور بالآخر 2018 میں امریکی سپریم کورٹ نے اسے برقرار رکھا۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران جب اسحاق ڈار سے بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے باہمی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اس کے لیے دو افراد کی ضرورت ہے۔ ڈار نے اگلے ماہ بنگلہ دیش کا دورہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔