Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے روس کے ساتھ تیل کی تجارت جاری رکھنے کی وجہ سے ہندوستان کو سزا دیتے ہوئے نئی دہلی پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا۔ ایم ای اے نے اس اقدام کو "غیر منصفانہ، غیر معقول اور ناقابل قبول" قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔

بی جے پی لیڈرپرتاپ کٹیہارنے ہتک عزت کا مقدمہ دائرکیا تھا۔ یہ تنازعہ 28 مارچ 2018 کوراہل گاندھی کے ایک بیان کے بعد شروع ہوا تھا۔ راہل گاندھی نے امت شاہ پرتبصرہ کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے پیر کے روز راہل گاندھی کے خلاف دسمبر 2022 کی بھارت جوڑو یاترا کے دوران فوج کے بارے میں ان کے تبصروں پر لکھنؤ کی ایک عدالت میں کارروائی پر روک لگا دی۔

راہل گاندھی نے یہ بیان16 دسمبر 2022 کو اپنی بھارت جوڑو یاترا کے دوران میڈیا اور عوام کے سامنے دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’لوگ بھارت جوڑو یاترا، گہلوت، سچن پائلٹ پر سوال کرتے ہیں لیکن چین نے 2000 مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا، 20 جوان شہید ہوئے، اروناچل میں فوجیوں کو پیٹا گیا، اس پر کوئی سوال نہیں کرتا۔‘‘

فاروق عبداللہ نے کہا کہ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایسا انتظام کر لیا ہے کہ اب بہار کا الیکشن جیت لیا جائے گا۔ فاروق عبدالل نے کہا کہ وہ خود بھی اس معاملے کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں اور اسی لیے اس میٹنگ میں جا رہے ہیں۔

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، لیکن جو ایٹم بم انہوں نے کرناٹک میں 6 ماہ کی محنت سے بنایاہے، اب وہ کمیشن کے افسران پر ہی پھٹیں گے۔ 'ایٹم بم' کب اور کہاں پھٹے گا؟ تاریخ طے ہے - 5 اگست جگہ مقرر ہے۔

راہل گاندھی نے یہ بھی الزام لگایا کہ بی جے پی نے ارب پتی گوتم اڈانی کی مدد کے لیے ہندوستانی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت پر25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر کانگریس نے مرکزی حکومت کوگھیرلیا ہے۔ ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ہندوستان پر25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے اورجرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ نریندرمودی کی 'دوستی' کا خمیازہ ملک بھگت رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے۔

ہندوستان اورپاکستان کی حالیہ کشیدگی کو ختم کرنے سے متعلق امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے مسلسل کئے گئے دعووں سے ہندوستان میں سیاسی بیان بازی تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایسے میں ایک بارپھراس معاملے میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے وزیراعظم مودی پرتنقید کی ہے۔

فوج کو پوری آزادی دینی ہوتی ہے۔ سیاسی عزائم کی ضرورت ہوتی ہے۔ فوج کے استعمال کے لیے سیاسی عزائم ضروری ہیں۔ 1971 میں تب کی وزیراعظم نے امریکہ کی پروا نہیں کی۔ ایک لاکھ پاکستانی فوجیوں نے سرینڈر کیا۔