مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی ’’ووٹر ادھیکار یاترا‘‘ کو ’’گھس پیٹھیا بچاؤ یاترا‘‘ قرار دیا۔ بہار کے روہتاس میں بی جے پی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ راہل گاندھی کی یاترا کا مقصد نہ تو ووٹ کی چوری کا مسئلہ ہے، نہ تعلیم، روزگار، بجلی یا سڑک جیسے عوامی مسائل، بلکہ ان کا اصل مقصد بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے گھس پیٹھیوں کو بچانا ہے۔
امت شاہ نے کہا کہ ’’راہل بابا ہر بار ایک نیا جھوٹا بیانیہ لے کر آتے ہیں۔ اس بار بھی انھوں نے یاترا نکالی، لیکن اس کا مقصد عوامی مسائل نہیں بلکہ گھس پیٹھیوں کو تحفظ دینا ہے۔ کیا آپ میں سے کسی کا ووٹ چوری ہوا ہے؟ یہ دراصل ’گھس پیٹھیا بچاؤ یاترا‘ ہے، ووٹ بچاؤ یاترا نہیں۔‘‘ مرکزی وزیر داخلہ نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ نوجوانوں کو نظرانداز کرکے صرف اپنے ووٹ بینک کے مفاد میں کام کر رہی ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ ’’کیا گھس پیٹھیوں کو ووٹ کا حق ہونا چاہیے؟ کیا انھیں مفت راشن، نوکری، مکان یا پانچ لاکھ روپے تک کا مفت علاج ملنا چاہیے؟ راہل گاندھی اور ان کی ٹیم ملک کے نوجوانوں کا حق چھین کر گھس پیٹھیوں کو نوازنا چاہتے ہیں۔‘‘
وزیر داخلہ امت شاہ نے بی جے پی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ گھر گھر جا کر عوام کو کانگریس کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر غلطی سے بھی ان کی حکومت بنی، تو بہار کے ہر ضلع میں صرف گھس پیٹھیے ہی نظر آئیں گے۔ ہمیں عوام کو بروقت خبردار کرنا ہوگا۔‘‘ امت شاہ کے یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب بہار میں آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریاں زوروں پر ہیں اور بی جے پی و کانگریس دونوں اپنی انتخابی مہمات میں تیزی لا رہی ہیں۔ دریں اثنا آج صبح ہی ایک پریس کانفرنس میں راہل گاندھی نے مبینہ ووٹر فراڈ کی تحقیقات پر الیکشن کمیشن پر عدم تعاون کا الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ دو سال سے سی آئی ڈی کے خطوط کا کوئی جواب نہیں دیا جا رہا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ چیف الیکشن کمشنر ووٹ چوروں کو تحفظ دے رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

