Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

طالب علم کے مطابق اس نے یہ معاملہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اٹھایا، جہاں اسے کافی لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ تاہم جب اس کے حق میں بڑی تعداد میں لوگ سامنے آئے تو بعض حلقوں نے انہیں ’ڈیپ اسٹیٹ ایجنٹ‘ اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے والا قرار دینا شروع کر دیا۔

این ٹی اے نے اپنے بیان میں کہا کہ صبح کی شفٹ میں شامل تمام امیدواروں کو پورا امتحانی وقت دیا گیا۔ ادارے نے طلبہ اور والدین کو پیش آنے والی پریشانی پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔مدد اور رہنمائی کے لیے این ٹی اے نے ہیلپ لائن نمبر 91-11-40759000 اور ای میل [email protected] جاری کی ہے، تاکہ طلبہ اپنی شکایات اور سوالات درج کرا سکیں۔

دہلی پہنچنے کے بعد سدارمیا نے کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں کھڑگے سدارمیا کے کندھے پر ہاتھ رکھے نظر آ رہے ہیں۔ادھر ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے تین نائب وزرائے اعلیٰ بنانے کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔

کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے عوام کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے محبت اور بھائی چارے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ عیدالاضحیٰ کے مقدس موقع پر آپ سب کو دلی مبارکباد۔

ڈی کے شیوکمار کے حامیوں نے انہیں آئندہ وزیر اعلیٰ قرار دیتے ہوئے پوسٹرز لگانا اور سوشل میڈیا پر مبارکبادی پیغامات شیئر کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حالانکہ، کانگریس پارٹی کی جانب سے اب تک قیادت کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی دففتری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ سال 2014 کا لوک سبھا انتخاب صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ملک کی سمت بدلنے والا فیصلہ ثابت ہوا۔ ان کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس وقت نریندر مودی کو وزیر اعظم کے چہرے کے طور پر پیش کیا تھا اور عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ انہیں قبول کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم مودی کی تعریف کیے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے رام کرپال یادو نے کہا کہ وہ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انہوں نے وزیراعظم مودی کی قیادت اور صلاحیتوں کو کھلے دل سے سراہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 12 برسوں میں مودی نے جس انداز میں ملک کی قیادت کی ہے، اس سے عالمی سطح پر بھارت کی ایک الگ شناخت قائم ہوئی ہے۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ وزیراعظم مودی پارلے بسکٹ اور چاکلیٹ کے اشتہارات اور تشہیری سرگرمیوں میں زیادہ مصروف دکھائی دیتے ہیں، لیکن ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے معاملے میں سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی دشوار بنا دی ہے۔

حالیہ اضافے سے قبل 15 مئی کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 3 روپے اضافہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 19 مئی کو 90 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوا، جبکہ 23 مئی کو پٹرول 87 پیسے اور ڈیزل 91 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کیا گیا۔

مرکزی وزیر پیوش گوئل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل پوسٹ جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی عام سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک سنگین سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق کانگریس اور اپوزیشن جماعتیں ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔