Congress MP Rahul Gandhi: دہلی میں پیلیٹ گن، بہار میں اے کے-47، راہل گاندھی بولے- نریندرمودی جی جو وعدہ کیا گیا تھا، وہ آخر کہاں گیا؟
راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کے مسائل کو سننے اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے انہیں طاقت کے زور پر خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد بہار میں طلبہ کے احتجاج اور حکومت کے رویے پر سیاسی بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔
FCRA Bill Explained: ایف سی آر اے بل 2026 کیا ہے؟ جانیے، سی جے پی احتجاج کے بعد غیر ملکی فنڈنگ پر اچانک بحث کیوں ہوگئی تیز
نیٹ پیپر لیک احتجاج ختم ہونے کے بعد ایف سی آر اے قانون اور اس میں مجوزہ ترمیم کو لے کر نئی سیاسی بحث شروع ہو گئی ہے۔ جانیے، ایف سی آر اے کیا ہے، یہ کیسے کام کرتا ہے اور مجوزہ ترمیم کے ذریعے حکومت اس میں کون سی تبدیلیاں کرنا چاہتی ہے۔
Desh Jawab Maang Raha Hai: ’’ملک جواب مانگ رہا ہے‘‘ راہل گاندھی نے طلبہ کے خلاف ’’مہلک طاقت‘‘ کے استعمال پر وزیرداخلہ امت شاہ سے کیا سوال
طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر راہل گاندھی نے وزیرداخلہ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ پرتشدد لاٹھی چارج پیلیٹ گن اور آنسو گیس کے استعمال کی اجازت آپ نے دی تھی یا نہیں۔ پولیس کی کارروائی میں 19 سالہ طالب علم کی آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
Rahul Gandhi on Dharmendra Pradhan Resignation: ’’بدعنوانی کی علامت ہیں، ان کو تو جانا ہی تھا‘‘، دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر راہل گاندھی کا بڑا حملہ، تحریک سے متعلق کہی یہ بڑی بات
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ پرکہا کہ انہیں جانا ہی تھا۔ انہوں نے کہا، ’’پردھان ایک علامت ہیں- بدعنوانی کی علامت، تعلیمی نظام کی بربادی کی علامت، نااہلی کی علامت۔ انہیں جانا ہی تھا اور اچھا ہوا کہ وہ چلے گئے۔‘‘
Congress MP Rahul Gandhi: راہل گاندھی نے حکومت کے سامنے رکھے تین مطالبات، دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں، وزیر اعظم مودی مانگیں معافی،…
راہل گاندھی نے کہا کہ "دھرمیندر پردھان اب صرف ایک وزیر نہیں رہے بلکہ وہ تعلیمی نظام میں بدعنوانی اور طلبہ کے مستقبل کو پہنچنے والے نقصان کی علامت بن چکے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے نوجوان اور طلبہ ہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں انہی کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے طلبہ کے دیگر دو مطالبات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان پر بھی کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔
’’دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور طلبا کو پیٹنے والوں پر کارروائی کا مطالبہ…‘‘ پانچویں دن بھی ہنگامے کی نذر ہوگیا پارلیمنٹ
اپوزیشن نے نیٹ-یوجی پیپرلیک ہونے پرمرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، جس کے بعد مسلسل پانچویں دن پارلیمنٹ ہنگامے کی نذرہوگیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دھرمیندرپردھان کا استعفیٰ، وزیراعظم مودی کی معافی اورمجرموں کے خلاف کارروائی بحث کی شرائط ہیں۔ حکومت بحث چاہتی ہے، لیکن اپوزیشن جوابدہی کی بات کررہا ہے۔
Parliament Monsoon Session: مانسون اجلاس کا پہلا ہفتہ ہنگامے کی نذر، نیٹ پیپر لیک معاملے پراپوزیشن مسلسل وزیر تعلیم کی برطرفی کا مطالبہ کر رہی ہے
ایوان کے باہر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے حق میں احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی مطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم استعفیٰ دیں، اس کے بعد ہی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بامعنی بحث ہو سکتی ہے۔
INDIA alliance MPs and leaders are peacefully heading to Gandhi Smriti: راہل گاندھی کے گھر میٹنگ ختم، بس میں بیٹھ کر گاندھی اسمرتی بھون جا رہے ہیں اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ
نیٹ پیپرلیک ہونے پردہلی میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ دریں اثنا، راہل گاندھی کی رہائش گاہ پرانڈیا الائنس کی میٹنگ ہوئی اورتمام شریک لیڈران پُرامن طریقے سے تیس جنوری مارگ پرگاندھی اسمرتی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی بھی راہل گاندھی کی رہائش گاہ پرپہنچیں۔
Rahul Gandhi Reacts to PM’s Announcement: دھرمیندر پردھان کو برطرف کریں، طلبہ سے مانگیں معافی.. پی ایم مودی کے اعلان پر راہل گاندھی کا ردعمل
وزیر اعظم مودی کے اعلان کے بعد راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا کہ آپ ہی نے ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ آپ نے تعلیمی نظام پر مکمل قبضہ ہونے دیا، اسے تباہ ہونے دیا، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کی اور اس کے ذمہ دار ہر شخص کو تحفظ فراہم کیا۔
Student Issues Should Not Be Politicized: راہل گاندھی کی پریس کانفرنس پر بی جے پی کا پلٹ وار، جے پی نڈا نے راہل گاندھی سے پوچھے سیدھے سوال کہا-’’طلبہ کے مسائل کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے‘‘
مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اپوزیشن بحث کے لیے وقت طے کرے، حکومت اس معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہالزام تراشی نہیں، بلکہ حل پر بحث ہونی چاہیے۔ بحث کے بعد ہمیں ایک ٹھوس پالیسی لے کر آنی چاہیے۔ بچے ملک کا مستقبل ہیں۔ ملک کے مستقبل کی فکر کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔





