Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے دھرنے کو کمزور کرنے کے لئے وزیراعظم مودی نے راہل گاندھی کو اپنی رہائش گاہ پر دھرنے پر بٹھا دیا۔ اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ ہم طلبا کے احتجاج کو پوری حمایت دے رہے ہیں۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر بھی جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کا حکم دینے والے اور اسے نافذ کرنے والے، دونوں کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں طلبہ کے احتجاج کی گونج سات سمندر پار بھی سنائی دی۔ دنیا کے کئی بڑے بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اس احتجاج کو نمایاں کوریج دیتے ہوئے طلبہ کے اس مظاہرے کو جرات مندانہ قرار دیا۔

کنگنا رناوت نے راہل گاندھی کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کے استعفے کے مطالبے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی دنیا کے مقبول ترین لیڈروں  میں شمار ہوتے ہیں، ایسے میں آخر وہ استعفیٰ کیوں دیں۔

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے الزام لگایا کہ کانگریس رہنماؤں کے خلاف پولیس کارروائی حکومت کے خوف کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے پیر کے روز مظاہرین پر مبینہ لاٹھی چارج کے معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ کو بھی نشانہ بنایا۔

اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران اپوزیشن کے متعدد ارکان پارلیمنٹ اور کارکن وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر پہنچ گئے تھے۔ کچھ دیر بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے رہنماؤں اور مظاہرین کو وہاں سے ہٹا کر مختلف مقامات پر منتقل کیا اور بھیڑ کو منتشر کر دیا۔ ذرائع کے مطابق پرینکا گاندھی واڈرا کو مندر مارگ تھانے، راہل گاندھی کو چھترسال اسٹیڈیم اور کئی دیگر ارکان پارلیمنٹ کو کنگز وے کیمپ کے علاقے میں لے جایا گیا ہے۔

کانگریس کا احتجاج نیٹ-یو جی 2026 پیپرلیک معاملے اور غیر مسلح طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر ایک روز قبل پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے بعد کیا گیا۔ پرینکا گاندھی واڈرا نے گرفتاری پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ بزدل ہیں۔ یہ خوف زدہ ہیں۔ ہم ان سے خوف زدہ نہیں ہیں۔ یہ ہم سے خوف زدہ ہیں۔‘‘

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے احتجاج کو سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کی بھی حمایت مل گئی۔ سماجوادی پارٹی کے مکھیا کے ذریعہ کانگریس لیڈران کے احتجاج کو حمایت ملنا عام آدمی پارٹی کے لئے جھٹکا مانا جا رہا ہے۔

کانگریس رہنماؤں نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن نے نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ کانگریس کے لیڈروں کا وزیراعظم کی رہائش گاہ کی جانب پیدل مارچ۔

اسی دوران ایک بڑی سیاسی پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ ایک طرف ایجوکیشن منسٹریا مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان ہوم منسٹرامت شاہ سے ملاقات کی اور اس پورے معاملے پر بات چیت ہوئی۔ وہیں سی جے پی کے لیڈران نے بی جے پی کے سابق صدر اور مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کی۔ سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس اورآشوتوش رانکا نے جے پی نڈا سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعد سوربھ داس نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے آگے بات چیت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ تقریباً دو گھنٹے انتظار کے بعد انہیں نڈا سے 10 منٹ ملاقات کا موقع ملا اور انہوں نے اپنی تمام مطالبات تحریری طورپرمرکزی وزیرکوسونپ دیئے۔