Bharat Express DD Free Dish

Politics

ذرائع کے مطابق راکھی جادھو کو بی جے پی گھاٹ کوپر سے ٹکٹ دے سکتی ہے۔ تاہم یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جس وارڈ سے بھی انہیں ٹکٹ دیا گیا، وہاں بی جے پی کے مقامی کارکن بغاوت کر سکتے ہیں۔ اس طرح بی ایم سی انتخابات سے پہلے بی جے پی کے اس فیصلے سے پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے بتایا کہ جنوری 2026 میں اڈیشہ کی پاروتی گری کی یومِ پیدائش کی صد سالہ تقریبات منائی جائیں گی۔ انہوں نے کم عمری میں بھارت چھوڑو تحریک‘ میں حصہ لیا اور آزادی کے بعد اپنی زندگی سماجی خدمت اور قبائلی فلاح کے لیے وقف کر دی۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پنڈت دین دیال اپادھیائے کا خواب تھا کہ قطار میں کھڑے آخری فرد تک تمام سہولیات پہنچیں۔ آج جب حکومت کی فلاحی اسکیموں کا فائدہ ہر ضرورت مند تک پہنچایا جا رہا ہے تو انتودیہ کا وہ خواب حقیقت میں بدل رہا ہے۔

طارق رحمان 11 ستمبر 2008 سے اپنے اہل خانہ کے ساتھ لندن میں مقیم تھے۔ تقریباً سترہ برس بعد ان کی یہ واپسی براہ راست سیاست میں فعال کردار کی طرف واپسی سمجھی جا رہی ہے، جس سے بنگلہ دیش کی سیاسی فضا میں نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔

اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ اس حساب سے بی جے پی آئندہ اسمبلی انتخابات میں مقابلے سے باہر ہو سکتی ہے اور پی ڈی اے کی یکجہتی ہی بی جے پی کی شکست اور سماج وادی پارٹی کی جیت کی بنیاد بنے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے موجودہ جماعت کے ممکنہ نقصان کو دیکھتے ہوئے ہی ایس آئی آر کے عمل کے لیے دو ہفتوں کی مہلت بڑھائی ہے۔

کانگریس لیڈروں کا کہنا ہے کہ کرناٹک، جموں و کشمیر سمیت مختلف ریاستوں سے کارکن دہلی پہنچ رہے ہیں۔ کرناٹک کانگریس کے صدر اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ اس سے راہل گاندھی کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کو مزید تقویت ملے گی۔

دہشت گرد جدید ہتھیاروں سے لیس تھے اور فرضی شناختی اسٹیکرز کی مدد سے سکیورٹی حصار توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ سی آر پی ایف کی کانسٹیبل کملیش کماری پہلی اہلکار تھیں جنہوں نے دہشت گردوں کو دیکھا اور خطرے کا الارم بجایا،

صدرٹرمپ کا مؤقف تھا کہ بھارت روسی تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے۔ جس سے یوکرین جنگ کے لیے ماسکو کو مالی مدد مل رہی ہے۔ ان پالیسیوں کے نفاذ کے لیے ٹرمپ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کا سہارا لیا تھا۔

انا ہزارے نے بتایا کہ انہوں نے سات بار دیویندرفڑنویس کو خط لکھا، لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ان کا سوال ہے کہ اگر یہ قانون عوام کے مفاد کا ہے تو پھر اسے نافذ کرنے میں مسلسل تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ این ڈی اے ممبران کو ڈنر پر مدعو کرنا ’انتہائی خوشگوار تجربہ‘ رہا۔ ان کے مطابق، این ڈی اے خاندان اچھے طرزحکمرانی، قومی ترقی اور علاقائی امنگوں کے لیے مشترکہ وابستگی کا مظہر ہے۔