سماجی کارکن انا ہزارے نے ایک بار پھر بڑا عوامی احتجاج شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے صاف کہا ہے کہ وہ 30 جنوری 2026 سے مہاراشٹر میں لوک آیکت ایکٹ کے نفاذ کے کے لئے احتجاج میں بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے اور یہ تحریک ان کی طرف سے آخری بڑی جدوجہد ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اب ہر حال میں لوک آیکت ایکٹ نافذ کرنا ہی ہوگا۔
VIDEO | Ahmednagar, Maharashtra: Anna Hazare announces indefinite fast from January 30 over non-implementation of Lokayukta Law in Maharashtra.#Lokayukta #MaharashtraNews
(Full video available on PTI Videos – https://t.co/n147TvrpG7) pic.twitter.com/OvjKj7hJlq
— Press Trust of India (@PTI_News) December 12, 2025
2022 کا وعدہ یاد دلایا
انا ہزارے نے بتایا کہ 2022 میں بھی انہوں نے لوک آیکت ایکٹ کی مانگ کے لیے رالیگن سدّھی میں بھوک ہڑتال کیا تھا۔ اس وقت کے وزیراعلیٰ دیویندرفڑنویس اور مرکزی زرعی وزیر نے مداخلت کر کے ان کی بھوک ہڑتال ختم کرائی تھی ۔ دیویندرفڑنویس حکومت نے اس قانون کا ڈرافٹ تیار کر کے اسمبلی کے دونوں ایوانوں سے پاس بھی کرایا، اور پھر اسے صدرجمہوریہ کے پاس بھیجا گیا۔ لیکن اس کے باجود آج تک یہ قانون نافذ نہیں ہو سکا۔
حکومت کی خاموشی پر شدید ناراضگی
انا ہزارے نے بتایا کہ انہوں نے سات بار دیویندرفڑنویس کو خط لکھا، لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ان کا سوال ہے کہ اگر یہ قانون عوام کے مفاد کا ہے تو پھر اسے نافذ کرنے میں مسلسل تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟
حکومت عوام کی بھلائی کے لیے ہوتی ہے، دکھاوے کے لیے نہیں
میڈیا سے گفتگو میں انا ہزارے نے کہا کہ حکومت کا کام عوام کی بھلائی کرنا ہے، محض دکھاوا نہیں۔ ان کے مطابق لوکایکت ایکٹ ضروری ہے، کیونکہ یہ براہِ راست عوامی مفاد سے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے انہوں نے 30 جنوری سے بھوک ہڑتال پربیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ حکومت کو اس قانون کے نفاذ پر مجبور کیا جا سکے۔ انہوں نے ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو ایک خط بھی لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ رالیگن سدھی میں بھوک ہڑتال کریں گے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی انا ہزارے نے 2011 میں بدعنوانی کے خلاف تحریک چلائی تھی۔ جن لوک پال بل کو لے کر یہ تحریک راجدھانی دہلی کے رام لیلا گراؤنڈ میں منعقد ہوئی تھی۔ اس تحریک میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




