Bharat Express DD Free Dish

Politics

یہ واقعہ 7 جنوری کی صبح تقریباً ساڑھے نو بجے جنوبی منیا پولس میں ایسٹ چونتیسویں اسٹریٹ اور پورٹ لینڈ ایونیو کے قریب پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت رینی نکول گڈ کے طور پر ہوئی ہے،

وزیر اعظم مودی نے مزید کہا کہ وہ ان کی دراز عمری اور صحت مند زندگی کی پرارتھنا کرتے ہیں تاکہ وہ اسی طرح عوامی خدمت میں سرگرم رہیں اور ریاست کی ترقی کے لیے کام کرتے رہیں۔ وزیر اعظم کے پیغام کو ریاست میں قیادت کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا جا رہا ہے۔

سی ایم یوگی نے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کی رہنمائی نئے اتر پردیش کی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

آج  کہا جا سکتا ہے کہ سومناتھ کی گاتھا شکست یا مٹ جانے کی کہانی نہیں، بلکہ یہ گزشتہ ایک ہزار سال سے بھارت ماتا کی کروڑوں اولادوں کے خودداری، غیر متزلزل ایمان اور آستھا کی زندہ مثال ہے۔ سومناتھ آج بھی پوری شان کے ساتھ کھڑا ہے اور آنے والی نسلوں کو حوصلہ، وقار اور تہذیبی شعور کا پیغام دے رہا ہے۔

آر جے ڈی کے ترجمان مرتیونجے تیواری نے کہا کہ اتراکھنڈ حکومت میں ایک وزیر کا شوہر خواتین کی توہین کر رہا ہے اور اس کی قیمت لگارہا ہے۔ اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ بی جے پی کو اس کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔

خط میں وزیراعظم  مودی نے کیرالہ کی پرانی سیاسی روایت پر سخت تنقید بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں تک بی جے پی کے کارکنوں نے مشکل حالات میں جدوجہد کی، جب کہ ریاست کی سیاست پر ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف کا غلبہ رہا،

وزیر اعظم  مودی سے ملاقات کے بعد ادھیر رنجن چودھری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بنگال کے مہاجر مزدور ملک کے مختلف حصوں میں کام کر رہے ہیں اور خاص طور پر بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں انہیں زیادتیوں کا سامنا ہے۔

امت شاہ نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 2026 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ مغربی بنگال میں حکومت بنائے گی۔ انہوں نے ماضی کے انتخابی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے 2014 سے لے کر اب تک ریاست میں مسلسل اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کی ہے،

وزیر اعظم مودی نے ریاست میں تنظیم کو مزید مضبوط، متحرک اور عوام دوست بنانے کے لیے قیمتی رہنمائی فراہم کی۔ یہ ملاقات بہار کی ہمہ جہت ترقی، کسانوں کے بااختیار بنانے اور تنظیمی استحکام کی سمت ایک اہم اور حوصلہ افزا قدم ثابت ہوئی۔

راہل گاندھی نے کہا کہ جب سابق فوجی سرکاری بقایاجات کے تحت کسی ریفرل پر نجی اسپتال جاتے ہیں تو ان کے علاج اور داخلے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی بار نجی اسپتال یہ کہہ کر علاج سے انکارکردیتے ہیں کہ حکومت نے ابھی تک بقایا رقم ادا نہیں کی ہے۔