Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

وزیر اعظم مودی نے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ آسٹریلیا کی وزیر خارجہ کا استقبال کرکے خوشی ہوئی۔ انہوں نے لکھا کہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔

آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ سال 2014 کا لوک سبھا انتخاب صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ملک کی سمت بدلنے والا فیصلہ ثابت ہوا۔ ان کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس وقت نریندر مودی کو وزیر اعظم کے چہرے کے طور پر پیش کیا تھا اور عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ انہیں قبول کیا۔

افواہ کے وائرل ہونے کے بعد متعدد صارفین نے دعویٰ کیا کہ شاید دونوں لیڈروں کے درمیان تعلقات میں سردمہری پیدا ہوگئی ہے۔ تاہم جب اس معاملے کی تفصیلی جانچ کی گئی اور جارجیا میلونی کے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹ کا جائزہ لیا گیا تو حقیقت کچھ اور ہی نکلی۔

وزیراعظم دفتر (پی ایم او) نے ملاقات کی تصاویر جاری کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ کیرلم کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیشن نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم مودی سے ستیشن کی یہ پہلی ملاقات ہے، جسے سیاسی طور پر کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس شلوک کا مفہوم بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ انسان کی روح ہمیشہ پاک، روشن اور سکون بخش ہوتی ہے، لیکن جہالت اور لاعلمی اسے خراب کر دیتی ہے۔ جب انسان کو صحیح علم حاصل ہوتا ہے تو اس کی روح دوبارہ اپنی اصل پاکیزہ حالت میں واپس آ جاتی ہے۔

وزیراعظم کے علاوہ وزیر اعلیٰ ستیشن کی ملاقات مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سے بھی طے ہے۔ یہ ملاقات دوپہر ڈھائی بجے نئی دہلی کے کرتویہ بھون میں ہوگی۔

راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ دنیش شرما نے کہا کہ ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور سال 2047 تک بھارت ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔ ان کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے سماجی ہم آہنگی، روحانی اقدار اور قومی یکجہتی کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔

لوک سبھا انتخابات 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ طویل عرصے بعد کسی ایک جماعت کو مکمل اکثریت ملنے سے ملک میں سیاسی استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی۔ انتخابی مہم کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے ترقی، بہتر حکمرانی اور مضبوط قیادت کو اپنا بنیادی نعرہ بنایا تھا، جس پر عوام نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں کئی اہم اصلاحات نافذ کی گئیں، جن کے باعث طویل عرصے سے رکے ہوئے پالیسی معاملات کو نئی رفتار ملی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو منظم شکل دینے، ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینے اور ملک کو 2047 تک وکست بھارت بنانے کے وژن پر مسلسل کام کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم مودی کی تعریف کیے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے رام کرپال یادو نے کہا کہ وہ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انہوں نے وزیراعظم مودی کی قیادت اور صلاحیتوں کو کھلے دل سے سراہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 12 برسوں میں مودی نے جس انداز میں ملک کی قیادت کی ہے، اس سے عالمی سطح پر بھارت کی ایک الگ شناخت قائم ہوئی ہے۔