نئی دہلی : بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے بھارتیہ جن سنگھ کے بانی اور ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی 125ویں یوم پیدائش کے موقع پر ایک تفصیلی مضمون تحریر کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیراعظم مودی نے اپنے مضمون میں ڈاکٹر مکھرجی کی قومی خدمات، نظریاتی وابستگی، نہرو کابینہ سے استعفیٰ اور بھارت کی وحدت کے لیے ان کی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط، متحد اور خود کفیل بھارت کا ان کا وژن آج بھی ملک کے لیے مشعلِ راہ ہے۔وزیراعظم مودی نے لکھا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی جدید بھارت کے چند دور اندیش لیڈروں میں شامل تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی قوم کی خدمت اور قومی مفاد کے لیے وقف کر دی۔ ان کے مطابق ڈاکٹر مکھرجی کی زندگی آج کے نوجوانوں کے لیے ایثار، خدمت اور قیادت کا بہترین نمونہ ہے۔
آسائشوں کے بجائے قربانی کا راستہ
وزیراعظم مودی نے مضمون میں ڈاکٹر مکھرجی کی ابتدائی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی پیدائش ایک ممتاز علمی خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کے والد سر آشوتوش مکھرجی اپنے دور کے معروف ماہرِ تعلیم تھے، مگر تمام آسائشوں کے باوجود ڈاکٹر مکھرجی نے آسان زندگی کے بجائے قربانی اور قومی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔انہوں نے لکھا کہ ذاتی زندگی میں کم عمر بیٹے اور اہلیہ کی وفات جیسے شدید صدمات برداشت کرنے کے باوجود ڈاکٹر مکھرجی اپنے قومی مشن سے پیچھے نہیں ہٹے اور برطانوی حکومت، فرقہ واریت اور دیگر چیلنجز کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے۔
تعلیم، سیاست اورعوامی خدمت میں نمایاں کردار
وزیراعظم مودی نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی کلکتہ یونیورسٹی کے کم عمر ترین وائس چانسلر بنے، جہاں انہوں نے تعلیمی نظام کو محض ملازمت فراہم کرنے کے بجائے نوجوانوں میں قیادت کی صلاحیت پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے بھارتیہ جن سنگھ کی بنیاد رکھی، جس کا انتخابی نشان “دیپک” رکھا گیا، جو اندھیروں کو روشنی میں بدلنے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔مودی نے 1943 کے بنگال کے قحط اور 1942 کے مدنی پور کے سمندری طوفان کے دوران ڈاکٹر مکھرجی کی عوامی خدمت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ قحط کے دوران ڈاکٹر مکھرجی نے متاثرین کی امداد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور برطانوی حکومت کی بے حسی پر “پنچاشیر منونتر” کے عنوان سے کتاب بھی تحریر کی۔
نہرو حکومت سے اصولی اختلاف
وزیراعظم مودی نے مضمون میں ڈاکٹر مکھرجی کے سیاسی سفر کا بھی تفصیل سے ذکر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ تقسیمِ ہند کے وقت مغربی بنگال کو بھارت کا حصہ برقرار رکھنے میں ڈاکٹر مکھرجی نے اہم کردار ادا کیا، جب کہ بعد میں جموں و کشمیر کے مکمل انضمام کے لیے بھی بھرپور جدوجہد کی، جہاں دوران حراست ان کا انتقال ہوا۔مودی نے کہا کہ 2019 میں آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی ڈاکٹر مکھرجی کی قربانی کو حقیقی خراجِ عقیدت پیش کرنے کے مترادف ہے۔
وزیراعظم مودی نے یہ بھی لکھا کہ ڈاکٹر مکھرجی سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے پنڈت جواہر لال نہرو کی پہلی کابینہ میں شامل ہوئے اور آزاد بھارت کے پہلے وزیرصنعت کی حیثیت سے جدید صنعتی ترقی کی بنیاد رکھی، قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب بعض قومی معاملات پر اصولی اختلافات پیدا ہوئے تو انہوں نے باوقار انداز میں کابینہ سے استعفیٰ دے دیا۔ وزیر اعظم مودی نے نہرو حکومت کے پہلے آئینی ترمیمی بل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی اسے اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن سمجھتے تھے اور اس کے سخت ناقد تھے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ بعد کے برسوں میں ایمرجنسی کے نفاذ نے ان کے خدشات کو درست ثابت کیا۔
خود کفیل اور ترقی یافتہ بھارت کا وژن
وزیراعظم مودی نے ڈاکٹر مکھرجی کے صنعتی وژن کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دامودر ویلی کارپوریشن، سندری فرٹیلائزر پلانٹ اور مضبوط صنعتی پالیسی جیسے منصوبوں کے ذریعے جدید صنعتی بھارت کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی نہ صرف صنعتی ترقی بلکہ ہینڈلوم، کُٹیّر صنعتوں، دستکاروں اور ٹیکسٹائل سے وابستہ مزدوروں کے مفادات کے بھی مضبوط حامی تھے۔وزیراعظم مودی نے سندری فرٹیلائزر پلانٹ کی بحالی کا ذاتی تجربہ بھی بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں تک اس منصوبے کو نظر انداز کیا گیا، لیکن ان کی حکومت کو اسے دوبارہ فعال بنانے کا موقع ملا، جسے وہ اپنی عوامی زندگی کے یادگار ترین لمحات میں شمار کرتے ہیں۔اپنے مضمون کے اختتام پر وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت آج “وکست بھارت” (ترقی یافتہ بھارت) کے ہدف کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہوگا کہ ملک ایک مضبوط، متحد، خود اعتماد، خود کفیل اور حساس بھارت کی تعمیر کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
