PM Modi UAE Visit: بھارت-یو اے ای کی دوستی کافی مضبوط، بہتر مستقبل کے لیے ساتھ مل کر کریں گے کام: پی ایم مودی
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جنگ جیسے حالات کا اثر پوری دنیا پر پڑ رہا ہے اور بھارت ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا، محفوظ اور آزاد رکھنا بھارت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے بین الاقوامی قوانین پر عمل ضروری ہے۔
Petrol-Diesel Price Hike: پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر آر جے ڈی کا مودی حکومت پر طنز، کہا- 5 روپے اور بڑھا دو، مگر کاجو کی روٹی بند نہ ہو
آر جے ڈی نے اپنی پوسٹ میں مرکزی ایجنسیوں جیسے ای ڈی، آئی ٹی، سی بی آئی اور الیکشن کمیشن کا بھی ذکر کیا اور حکومت پر سیاسی فائدے کے لیے ان اداروں کے استعمال کا الزام لگایا۔ پارٹی نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ “ان اداروں کے افسروں کے خرچے،
LPG, Defence Partnership Framework: وزیر اعظم مودی کے مختصر یو اے ای دورے سے بھارت کو بڑی کامیابیاں، ایل پی جی، دفاع اور سرمایہ کاری کے اہم معاہدے
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں بھارت اور یو اے ای کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے اور آنے والے وقت میں دونوں ممالک ہر شعبے میں مل کر آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں،
PM Modi UAE Visit: ابو ظہبی پہنچنے پر یو اے ای کے جنگی طیاروں نے کیا وزیر اعظم مودی کے طیارے کا استقبال، خلیجی تعلقات کو ملی نئی مضبوطی
سیاسی ماہرین کے مطابق یو اے ای کی جانب سے جنگی طیاروں کے ذریعے دیا گیا یہ استقبال دونوں ممالک کے درمیان مضبوط سفارتی اور اسٹریٹجک تعلقات کی علامت ہے۔ یہ اقدام اس بات کا اشارہ بھی مانا جا رہا ہے کہ خلیجی خطے میں بھارت کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
Rahul Gandhi on Petrol-Diesel Price Hike: پٹرول-ڈیژل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے پرناراض ہوئے راہل گاندھی، کہا- ’3 کا جھٹکا آچکا، باقی…‘
پٹرول، ڈیژل اورسی این جی کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد راہل گاندھی نے مودی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے ایکس پرپوسٹ کرکے طنز کیا ہے اور بڑا سوال اٹھا دیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ مودی حکومت غلطی پرہے اورعوام کواس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
PM Modi to visit UAE and four European countries: خلیج سے یورپ تک بھارت کا سفارتی سفر، وزیر اعظم مودی چھ روزہ غیر ملکی دورے پر روانہ
یو اے ای کی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی نے وزیر اعظم مودی کو اماراتی قیادت اور عوام کے لیے “قیمتی اثاثہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئی بلندیوں کو چھونے جا رہے ہیں۔
PM Modi 6-Day Global Tour: وزیر اعظم مودی کی15 مئی سے پانچ ممالک کے دورے میں توانائی کی حفاظت اور یورپ کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کرنے پر دی جائے گی توجہ
یو اے ای کے بعد وزیر اعظم مودی نیدرلینڈ روانہ ہوں گے۔ سال 2017 کے بعد یہ ان کا دوسرا دورہ ہوگا۔ وہاں وہ شاہ ولیم الیگزینڈر اور ملکہ میکسیما سے ملاقات کریں گے، جبکہ ڈچ قیادت کے ساتھ مستقبل کی ٹیکنالوجی،
PM Modi Work From Home Appeal Effect: کار پولنگ اور ورک فرام ہوم بن گیا ہتھیار، آئی ٹی سیکٹر کے نوجوانوں نے وزیر اعظم مودی کی اپیل پر کیا عمل
وزیر اعظم مودی کی جانب سے ایندھن کی بچت اور قومی مفاد کے لیے وسائل کے بہتر استعمال کی اپیل کو آئی ٹی سیکٹر نے عملی شکل دینا شروع کر دیا ہے۔ گجرات کے صنعتی اور تکنیکی مراکز خصوصاً سورت میں کئی آئی ٹی کمپنیوں اور نوجوان ملازمین نے ورک فرام ہوم اور کار پولنگ جیسے طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے ایندھن کی بچت کے ساتھ ساتھ ماحولیات کے تحفظ کی جانب بھی قدم بڑھایا ہے۔
PM Modi Met Iranian FM Seyed Abbas Araghchi: برکس اجلاس میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی وزیر اعظم مودی سے ملاقات، دوطرفہ اور عالمی امور پر تبادلہ خیال
بھارت میں ایران کے سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی دو روزہ برکس اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اہم ملاقات کی۔ بیان کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے متعدد معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
PM Modi To Visit Netherlands: وزیر اعظم مودی کا مجوزہ نیدرلینڈز کا دورہ اہم، بھارت-ڈچ تعلقات کو مل سکتی ہے نئی سمت
نیدرلینڈز میں بھارت کے سفیر کمار توہن نے اس دورے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برسوں میں مختلف شعبوں میں تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور اب اس پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس دورے کا مقصد صرف سفارتی روایات کو آگے بڑھانا نہیں بلکہ باہمی شراکت داری کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانا بھی ہے۔





