Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں فرانس کے شہر نیس میں منعقدہ ’’بھارت انوویٹس 2026‘‘ پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریب نے دنیا کے سامنے بھارت کی ڈیپ ٹیک صلاحیتوں کو واضح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریب میں بھارت کے 120 ممتاز ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس نے شرکت کی،

کھڑگے نے کہا کہ راہل گاندھی نے ہمیشہ معاشرے کے کمزور، محروم اور پسماندہ طبقات کی آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کی ہم آہنگی، سماجی انصاف، برابری اور ہمدردی کی روایات راہل گاندھی کی قیادت اور عوامی زندگی میں نمایاں طور پر جھلکتی ہیں۔

ایمانوئل میکرون نے اپنے خطاب میں انہوں نے گزشتہ 12 برسوں کے دوران بھارت کی معاشی اور صنعتی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی برآمدات میں 35 گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ موبائل فون تیار کرنے والی یونٹس کی تعداد میں 100 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں منعقدہ ویوا ٹیک 2026 (VivaTech 2026) سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کی تیز رفتار تکنیکی ترقی کو اجاگر کیا اور کہا کہ بھارت میں AI کا مطلب صرف آرٹیفیشل انٹیلی جنس نہیں بلکہ "آل اِنکلیوسیو" (سب کو ساتھ لے کر چلنے والا) بھی ہے۔

کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز کمیشن (KVIC) نے پردھان منتری روزگار پیداوار پروگرام (PMEGP) کے تحت ملک بھر میں 22,259 نئے منصوبوں کے لیے 504.68 کروڑ روپے کی مارجن منی سبسڈی جاری کی ہے۔ یہ رقم روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور خود روزگاری کو فروغ دینے کے مقصد سے فراہم کی گئی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی 20 جون کو مغربی بنگال کے تارکیشور سے پردھان منتری کسان سمان ندھی (PM-KISAN) اسکیم کی 23ویں قسط جاری کریں گے۔ اس موقع پر ملک بھر کے 9.44 کروڑ کسانوں کے بینک کھاتوں میں مجموعی طور پر 18,880 کروڑ روپے کی مالی امداد براہِ راست منتقل کی جائے گی۔

فرانس کے شہر ایویان میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بطور مہمان رکن شرکت کی اور عالمی لیڈروں کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر انہوں نے عالمی امن، بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل اور بحری سلامتی جیسے اہم موضوعات پر بھارت کا مؤقف مضبوطی سے پیش کیا۔

وزیراعظم نریندر مودی 15 لاکھ سے زائد مستفیدین کو 2,400 کروڑ روپے کی ترغیبی رقم ڈی بی ٹی کے ذریعے منتقل کریں گے، ملک بھر کے 200 صنعتی مراکز میں بھی بیک وقت پروگرام منعقد ہوں گے۔

مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی سمت اور انداز دونوں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔جے رام رمیش نے خبردار کیا کہ پاکستان اب مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست اور سکیورٹی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ بنتا جا رہا ہے، جس کے بھارت کے لیے طویل مدتی اور دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔

اس شلوک کا مفہوم بیان کرتے ہوئے  پی ایم مودی نے کہا کہ دولت سچائی اور دیانت داری کا ساتھ دیتی ہے، شہرت اور عزت دوسروں کی بھلائی اور ایثار کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، علم مسلسل مشق اور محنت سے ملتا ہے، جبکہ عقل و دانش عمل کے ذریعے نکھرتی اور ترقی کرتی ہے۔