Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

ذرائع کے مطابق 4 جولائی سے آغاز ہونے والی کئی روزہ تقریبات 9 جولائی کو مشہد میں تدفین پر اختتام پذیر ہوں گی۔ آخری رسومات اور تدفین کی تقریب میں متعدد عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال اور بھارتی شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے دونوں لیڈروں کے درمیان اہم گفتگو ہوئی۔ قطر کے امیر نے راس لفان حادثے میں بھارتی شہریوں کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا، جبکہ دونوں لیڈروں نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ پر زور دیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ (24 جون 2026) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘پر سناتن ثقافت اور حب الوطنی سے متعلق ایک نہایت بامعنی اور طاقتور سنسکرت سبھاشت شیئر کیا۔ پی ایم مودی نے قوم کو اجتماعی عزم اور پُرشارتھ (محنت و جدوجہد) کی اہمیت سمجھاتے ہوئے لکھا، ’’اجتماعی لگن اور پُرشارتھ سے قوم …

وزیراعظم نے کہا کہ ہر اعزاز یافتہ شخصیت سماج کے لیے خدمت کے اعلیٰ جذبے کی نمائندگی کرتی ہے اور ان کی زندگی کا سفر بے شمار شہریوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، جو یہ یاد دلاتا ہے کہ محنت، عزم اور عوامی خدمت ہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہیں۔

اجلاس میں برازیل، روس، چین، جنوبی افریقہ، متحدہ عرب امارات، مصر، ایران، انڈونیشیا اور ایتھوپیا سمیت مختلف برکس ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے موقع پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے کئی شراکت دار ممالک کے نمائندوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں سلامتی، علاقائی تعاون اور مشترکہ مفادات سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ افسران کو اپنے عہدے یا اختیارات سے نہیں بلکہ اپنے کام کے ٹھوس اور قابل پیمائش نتائج سے اطمینان حاصل کرنا چاہیے۔ انہوں نے ملک کی تعمیر میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ موجودہ بیچ میں 40 فیصد سے زائد افسران خواتین ہیں۔

وزیر اعظم نے 2024 بیچ کے آئی اے ایس افسران سے تبادلۂ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہر سرکاری فائل کے پیچھے عوام کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ وزیراعظم نے نوجوان افسران سے دیانت داری، حساسیت اور عوام دوست طرز حکمرانی اپنانے پر بھی زور دیا۔

وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کا مؤقف ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں کئی ایسے فیصلے کیے گئے ہیں جو ڈاکٹر مکھرجی کے نظریات سے ہم آہنگ ہیں۔ ان میں سب سے اہم اقدام 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کو قرار دیا جاتا ہے، جس کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی گئی۔

شیاما پرساد مکھرجی کا سیاسی سفر 1929 میں اس وقت شروع ہوا جب وہ آزاد امیدوار کے طور پر بنگال لیجسلیٹو کونسل کے لیے منتخب ہوئے۔ شروع میں وہ کانگریس پارٹی سے وابستہ رہے، لیکن بعد میں نظریاتی اختلافات کی وجہ سے انہوں نے الگ راستہ اختیار کیا اور ہندو مہاسبھا کے سرکردہ لیڈروں میں شمار ہونے لگے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت ایک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی، معتبر اور قابلِ اعتماد عالمی طاقت بن چکا ہے۔ انہوں نے حالیہ جی-7 سربراہ اجلاس کے اپنے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے تمام رہنما بخوبی جانتے ہیں کہ آج کے بھارت کے لیے ’’نیشن فرسٹ‘‘ ہی سب سے بڑا اصول ہے۔