Bharat Express DD Free Dish

Plane Crash

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ ملک میں مسلسل اس قسم کے سانحات کا ہونا انتہائی تشویشناک ہے اورپبلک انفراسٹرکچر اور تحفظ کے نظام کی کمزوریوں کی علامت ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان دونوں حادثات کی شفاف اور مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب 12 جون کو احمد آباد سے لندن جانے والی ایئر انڈیا ڈریم لائنر کی پرواز ٹیک آف کے فوراً بعد گر کر تباہ ہو گئی تھی۔

حکام نے بتایا کہ طیارہ گرنے کے بعد آگ میں درجہ حرارت 1000 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ،جس سے ریسکیو آپریشن مشکل ہو گیا۔ موقع پر موجود جانور اور پرندے بھی زندہ نہ بچ سکے۔

وجے روپانی کے دور کو گجرات کی ترقی میں اہم مانا جاتا ہے۔ ان کی قیادت میں ’ایز آف لیونگ‘ جیسے اقدامات نے نہ صرف ریاست کی معاشی ترقی کو تیز کیا بلکہ عام لوگوں کی زندگیوں کو بھی آسان بنایا۔ ان کی سادگی اور عوام کے تئیں حساسیت نے انہیں ایک مقبول لیڈر بنا دیا۔

ایئر انڈیا کے طیارے نے جمعرات کے روز دوپہر 1:38 بجے احمد آباد سے لندن کے لیے اڑان بھری تھی، جس میں 230 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔ طیارہ ٹیک آف کے چند منٹ بعد گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارہ احمد آباد ہوائی اڈے سے کچھ فاصلے پر اسپتال کے ہاسٹل سے ٹکرا گیا اور اس میں آگ لگ گئی۔ اب تک کل 241 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔

پی ایم مودی صبح 8:30 بجے احمد آباد ہوائی اڈے پر پہنچے، جہاں سے وہ جائے حادثہ پر گئے اور صورت حال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے تقریباً 20 منٹ تک جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور امدادی کاموں میں مصروف اہلکاروں اور این ڈی آر ایف کی ٹیموں سے معلومات لی۔ اس کے بعد وہ احمد آباد کے سول اسپتال گئے، جہاں انہوں نے زخمیوں سے ملاقات کی، ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور زندہ بچ جانے والے واحد مسافر وشو کمار رمیش سے بھی بات کی۔

اسرائیل کی جانب سے ایران پر شدید حملے کے بعد ایران، تہران اور شام کی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں۔ جب پرواز ایرانی فضائی حدود کے قریب پہنچی تو پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) سے رابطہ کیا

پی ایم مودی نے اس دورے کے بعد انسٹاگرام پر تصاویر شیئر کی ہیں۔ انہوں نے انسٹاگرام پر لکھا، احمد آباد میں ہوائی حادثے سے ہم سب صدمے میں ہیں۔ اتنے لوگوں کی اچانک اور دل دہلا دینے والی موت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سول اسپتال میں ایئر انڈیا کے طیارہ حادثے میں بچ جانے والے وشواش کمار رمیش سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے رمیش کی خیریت دریافت کی۔

بتایا گیا کہ سنگین حادثات کی صورت میں ایک فیلڈ ٹیم موقع پر بھیجی جاتی ہے، جو بلیک باکس (فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر)، کاک پٹ وائس ریکارڈر وغیرہ کی تحقیقات کرتی ہے، اوسطاً ایسے واقعات کی ابتدائی رپورٹ تین ماہ کے اندر جاری کردی جاتی ہے۔