Bharat Express DD Free Dish

Ahmedabad Plane Crash: اے اے آئی بی کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات؛ جانئے اب تک اس ہولناک حادثے میں کیا کچھ ہوا؟

حادثے کے بعد، ایئر انڈیا کی مرکزی کمپنی “ٹاٹا سنز” نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایئر انڈیا نے 25 لاکھ روپے کا عبوری معاوضہ بھی دینا شروع کر دیا۔ مزید برآں، ایئر انڈیا نے تربیت یافتہ ماہرِ نفسیات کی ایک ٹیم متاثرہ خاندانوں کو ذہنی امداد فراہم کرنے کے لیے روانہ کی ہے۔

آج سے ٹھیک ایک مہینہ پہلے، یعنی 12 جون کا وہ سیاہ دن، جب احمد آباد سے لندن جا رہی ایئر انڈیا کی پرواز AI171 ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی۔ یہ حادثہ اتنا ہولناک تھا کہ صرف چند سیکنڈز میں 260 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 229 مسافر، 12 کریو ممبران اور 19 زمین پر موجود افراد شامل تھے۔ اس حادثے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ متاثرہ خاندان آج تک اس صدمے سے باہر نہیں آ سکے ہیں۔

اسی دوران ہفتے کے روز، 12 جولائی کو، ہوائی حادثات کی تفتیش کرنے والے ادارے “ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بیورو (AAIB)” نے اس حادثے پر اپنی 15 صفحات پر مشتمل ابتدائی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ آئیے، آغاز سے لے کر اب تک اس حادثے کی مکمل تفصیلات پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

12 جون کا دن، جب پیش آیا خوفناک طیارہ حادثہ

ایئر انڈیا کا تقریباً 12 سال پرانا بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر طیارہ (رجسٹریشن: VT-ANB) 12 جون کو احمد آباد سے لندن گیٹوک کے لیے روانہ ہوا۔ پرواز بھرنے کے صرف چند ہی سیکنڈ بعد یہ طیارہ احمد آباد کے بی جے میڈیکل کالج کے رہائشی علاقے پر گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارے میں کل 242 افراد سوار تھے، جن میں 230 مسافر اور 12 کریو ممبران شامل تھے۔ اس حادثے میں مجموعی طور پر 260 افراد جاں بحق ہو گئے۔ حادثے میں صرف ایک برطانوی شہری، 45 سالہ وشواش کمار رمیش، زندہ بچ پائے۔

ایئر انڈیا نے معاوضے اور امداد کا اعلان کیا

حادثے کے بعد، ایئر انڈیا کی مرکزی کمپنی “ٹاٹا سنز” نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایئر انڈیا نے 25 لاکھ روپے کا عبوری معاوضہ بھی دینا شروع کر دیا۔ مزید برآں، ایئر انڈیا نے تربیت یافتہ ماہرِ نفسیات کی ایک ٹیم متاثرہ خاندانوں کو ذہنی امداد فراہم کرنے کے لیے روانہ کی ہے۔

حادثے کی تحقیقات اگلے دن سے شروع

حادثے کے بعد پورے ملک میں بحث چھڑ گئی کہ اس بڑے سانحے کی اصل وجہ کیا تھی۔ 13 جون کو ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بیورو اے اے بی آئی نے اس کی تحقیقات کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی۔ مرکزی حکومت نے بھی وزارت داخلہ کے سیکریٹری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی، جو نہ صرف حادثے کی وجوہات کا پتہ لگائے گی بلکہ مستقبل کے لیے حفاظتی تجاویز بھی پیش کرے گی۔ اسی کے ساتھ، DGCA نے ایئر انڈیا کے تمام بوئنگ 787 طیاروں کی تفصیلی حفاظتی جانچ کے احکامات جاری کیے۔ ساتھ ہی ایئر انڈیا نے اپنی بوئنگ 777 طیاروں کی بھی خصوصی جانچ شروع کر دی۔

بلیک باکس کی برآمدگی اور تفتیش

حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے سب سے اہم چیز، یعنی بلیک باکس کی تلاش، 13 جون کو کامیاب ہوئی۔ پہلا بلیک باکس—ممکنہ طور پر فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (FDR)—ایک عمارت کی چھت سے ملا۔ دوسرا بلیک باکس، جو کہ شاید کاک پٹ وائس ریکارڈر (CVR) تھا، 16 جون کو ملبے سے ملا۔ دونوں بلیک باکسز کو 24 جون کو بھارتی فضائیہ (IAF) کے ذریعے حفاظت کے ساتھ دہلی منتقل کیا گیا۔

بھارت  ایکسپریس اردو

 



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read