علامتی فوٹو
168 مسافروں کے ساتھ گوہاٹی سے چنئی جانے والی انڈیگو کی پرواز نے ایندھن کی شدید قلت کی وجہ سے جمعرات کو ’’مے ڈے‘‘ کال کی اور بنگلورو کے کیمپے گوڑا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی۔ ایک ہفتے میں دوسرا بڑا طیارہ حادثہ ہوتے ہوتے ٹل گیا ہے۔ جب پائلٹس نے اے ٹی سی (ایئر ٹریفک کنٹرول) کو اس بحران سے آگاہ کیا تو طبی اور فائر ٹیموں کو فوری طور پر الرٹ کر دیا گیا۔ طیارہ 8 بج کر 20 منٹ پر بحفاظت لینڈ کر گیا۔ تمام مسافر محفوظ ہیں۔ ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ بحران کے باوجود پائلٹ نے ہوشیاری سے طیارے کو بحفاظت لینڈ کیا۔
گزشتہ ہفتے ہی ہوا ہے ایئر انڈیا ڈریم لائنر طیارہ حادثہ
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب 12 جون کو احمد آباد سے لندن جانے والی ایئر انڈیا ڈریم لائنر کی پرواز ٹیک آف کے فوراً بعد گر کر تباہ ہو گئی تھی۔ اس طیارے نے بھی ’’مے ڈے‘‘ کال کی تھی، تاہم اس کے فوراً بعد وہ بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل کی عمارت پر گر کر تباہ ہو گیا اور طیارے میں سوار تمام مسافر اور عملہ، سوائے ایک کے، مارا گیا۔ اس حادثے نے ملک کے ایوی ایشن سیفٹی سسٹم پر کئی سوال کھڑے کر دیے تھے۔ تاہم اب پھر انڈیگو کا یہ طیارہ بڑے حادثے کا شکار ہوتے ہوتے بچ گیا ہے، لیکن اس نے بھی سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔
معاملے کی تحقیقات شروع
ذرائع کے مطابق ’’مے ڈے‘‘ کال دینے والے انڈیگو فلائٹ کے دونوں پائلٹس کو فی الحال ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے اس معاملے کی ابتدائی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ دریں اثنا جمعہ کو انڈیگو کی ایک اور پرواز، جو چنئی سے مدورائی جا رہی تھی، درمیانی فضائی تکنیکی خرابی کی وجہ سے چنئی واپس لوٹ گئی تھی۔ اس طیارے میں تقریباً 68 مسافر سوار تھے اور تمام کو بحفاظت نیچے اتار لیا گیا۔ تاہم اس طرح کے متواتر واقعات ملک میں فلائٹ سیفٹی کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



