Bharat Express DD Free Dish

Plane Crash

مہاراشٹر کے بارامتی میں ہونے والے ہوائی جہاز کے حادثے میں جونپور کی فلائٹ اٹینڈنٹ پنکی مالی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔ موت کی خبر ملتے ہی کیراکت تحصیل کے بھینسا گاؤں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

دنیا بھر میں ہوائی سفر کو تیز رفتار اور سہولت بخش ذریعۂ نقل و حمل مانا جاتا ہے، لیکن کئی بار یہی سہولت جان لیوا بھی ثابت ہو جاتی ہے۔ آج مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار ایک افسوسناک طیارہ حادثے میں اپنی جان گنوا بیٹھے۔ تاہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو کئی ایسے سیاسی لیڈر بھی ملتے ہیں جو سنگین فضائی حادثات کے باوجود محفوظ رہے اور موت کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔

اپنے بھتیجے اجیت پوارکی موت پرشرد پوارکا پہلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ پوری طرح سے حادثہ ہے۔ اس میں کوئی سازش نہیں ہے۔ شرد پوارنے اپیل کی کہ اس حادثے پرسیاست نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اجیت پوارکی موت سے مہاراشٹرکوبہت بڑا نقصان ہوا ہے، …

اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتَم اڈانی نے بدھ کے روز مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے اچانک انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مہاراشٹر کی سیاست میں ’دادا‘ کے نام سے مشہور اجیت پوار کا بدھ کی صبح بارامتی میں ایک المناک طیارہ حادثے میں انتقال ہو گیا۔

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور این سی پی لیڈر اجیت پوار کا بارامتی میں پیش آئے طیارہ حادثے میں انتقال ہو گیا۔ حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے بلیک باکس کی جانچ کی جائے گی۔

بھارت میں کئی بڑے اور اہم لیڈروں کی موت طیارہ اور ہیلی کاپٹر حادثات میں ہو چکی ہے۔ سنجے گاندھی سے لے کر وجے روپانی تک، ان حادثات نے نہ صرف سیاست کو بلکہ عوام کو بھی گہرے صدمے میں مبتلا کیا ہے۔

اجیت پوار نے سال 1982 میں محض 20 برس کی عمر میں سیاست میں قدم رکھا۔ ابتدا میں انہوں نے ایک کوآپریٹو شوگر مل کے بورڈ کا انتخاب لڑا۔ اس کے بعد 1991 میں وہ پونے سینٹرل کوآپریٹو بینک کے صدر بنے اور تقریباً 16 برس تک اس عہدے پر فائز رہے۔

اجیت پوار کی آخری پرواز ان کی زندگی کا بھی آخری سفر ثابت ہوئی۔ بارامتی میں پیش آئے طیارہ حادثے سے کچھ ہی دیر پہلے انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک عظیم مجاہدِ آزادی کو یاد کیا تھا۔ وہی آخری پوسٹ اب سب کو جذباتی کر رہی ہے۔ آخر وہ پوسٹ کیا تھی، جس نے لوگوں کے دلوں کو چھو لیا؟

مہاراشٹر کی سیاست کے قد آور لیڈر اجیت پوار جاں بحق ہو گئے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران وہ کئی بڑے حادثات کا سامنا کر چکے تھے، جن میں وہ بال بال بچ گئے تھے، لیکن جنوری 2026 میں پیش آنے والا حادثہ ان کی زندگی کی آخری کڑی ثابت ہوا۔ آئیے جانتے ہیں ان سے جڑے اہم حادثات۔

ترکی میں منگل کی شام ایک بڑا اور افسوسناک طیارہ حادثہ پیش آیا جس میں لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے۔ حادثے کے بعد انقرہ ہوائی اڈے کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ ترک اور لیبیائی حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔