Bharat Express DD Free Dish

Parliament Session

یہ بل اپوزیشن کی جانب سے بہار میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) پر بحث کے مطالبے کے دوران بغیر بحث کے منظور کیا گیا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ہی مانسون سیشن کے آغاز سے ہی اپوزیشن کے احتجاج اور ہنگاموں کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں۔

وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا کہ فوج اور سی آر پی ایف نے دہشت گردوں کے آقا کو بھی مار گرایا۔ اس پر اکھلیش یادو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آقا پاکستان میں ہیں۔ جس پر امت شاہ نے طنزیہ انداز میں جواب دیا، کون... آپ کی پاکستان سے بات ہوتی ہے کیا؟

جے شنکر نے کسی بھی قسم کی ثالثی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی پہل پاکستان نے کی تھی۔ ہم نے صاف کہا تھا کہ اگر پاکستان جنگ روکنا چاہتا ہے تو اس کا ڈی جی ایم او ہمارے ڈی جی ایم او سے بات کرے۔وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ اقوام متحدہ نے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے کہا کہ ایوان کی کارروائی تبھی آگے بڑھے گی جب حکومت بہار میں ووٹر لسٹ پر نظرِثانی کے معاملے پر جواب دے گی۔

راجیہ سبھا میں ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب ڈپٹی چیئرمین گھنشیام تیواری نے اعلان کیا کہ نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے صحت کے مسائل کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ استعفیٰ آئین کے آرٹیکل 67(a) کے تحت فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔

پیر کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو ہنگامہ آرائی اور ایوان میں اپوزیشن لیڈروں کی جانب سے بولنے کے مطالبات کے درمیان 22 جولائی کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

یہ اجلاس مودی حکومت کے تیسرے دور کی چوتھی پارلیمانی نشست ہوگی۔ اس سے قبل مانسون سیشن 2024، سرمائی اجلاس 2024 اور بجٹ اجلاس 2025 کئی اہم سیاسی اور قانون سازی کے لمحات کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ  کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ دینے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔

کانگریس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھائے، جو اسے پاک-بھارت تنازع میں غیر ضروری مداخلت سمجھتی ہے۔ دوسری جانب، حکومت نے آپریشن سندور کو دہشت گردی کے خلاف ایک کامیاب مہم قرار دیتے ہوئے اپوزیشن سے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

اس سے پہلے پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 31 جنوری کو شروع ہوا تھا۔ بجٹ اجلاس کے دوران کئی اہم قوانین منظور کیے گئے، جن میں وقف ترمیمی بل بھی شامل ہے۔ بجٹ اجلاس کے اختتام کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رجیجو نے بتایا کہ اجلاس کے پہلے حصے میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کل 9 نشستیں ہوئیں۔ اجلاس کے دوسرے حصے میں دونوں ایوانوں کی 17 نشستیں ہوئیں۔ یوں کل ملا کر بجٹ اجلاس میں 26 نشستیں ہوئیں۔