Bharat Express DD Free Dish

Congress to organise protest at Parliament: جموں کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے ساتھ ریاستی کانگریس پہلے کشمیر،پھر جموں اس کے بعد دہلی میں کرے گی احتجاج

واضح رہے کہ  کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ دینے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔

 جموں و کشمیر کانگریس یونٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جموں کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے تحت جموں، کشمیر اور دہلی میں حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق حمید کرہ نے بتایا کہ پارٹی 19 جولائی کو کشمیر اور 20 جولائی کو جموں میں احتجاج کرے گی، جس کے بعد 21 جولائی کو دہلی میں پارلیمنٹ کے سامنے علامتی طور پر گھیراؤ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم انڈیا بلاک کے 233 ارکان کی حمایت سے چلائی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ  کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ دینے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں سے جموں و کشمیر کے عوام مسلسل اس مطالبے کو اٹھا رہے ہیں، جو ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے لداخ کو آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کی بھی درخواست کی، تاکہ وہاں کے لوگوں کے ثقافتی، ترقیاتی اور سیاسی حقوق کی حفاظت ہو۔

طارق حمید کرہ کی سربراہی میں کانگریس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں عوامی سطح پر ’ہماری ریاست، ہمارا حق‘ مہم کو مزید تیز کرے گی۔ پارٹی نے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر تنقید کی کہ وہ عوام سے کئے گئے وعدوں، بشمول سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ میں دیے گئے بیانات، کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ احتجاج کا آغاز 19 جولائی کو سری نگر میں راج بھون کی طرف مارچ سے ہوگا، اس کے بعد 20 جولائی کو جموں میں، اور آخر میں 21 جولائی کو دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کیا جائے گا، جس کی قیادت کرہ خود کریں گے۔اس کے بعد پارلیمنٹ کے قریب احتجاج کیا جاسکتا ہے۔حالانکہ راہل گاندھی اس  احتجاج میں شامل ہوں گے یا نہیں اس سلسلے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read