Bharat Express DD Free Dish

India Bloc Floor Leaders to Meet Tomorrow: انڈیا بلاک کے فلور لیڈر کل پارلیمنٹ میں کریں گے اہم میٹنگ، حکمت عملی اور ایجنڈے پر کریں گے تبادلۂ خیال

پیر کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو ہنگامہ آرائی اور ایوان میں اپوزیشن لیڈروں کی جانب سے بولنے کے مطالبات کے درمیان 22 جولائی کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

(فائل فوٹو: اے این آئی)

انڈیا بلاک منگل کو صبح 10 بجے پارلیمنٹ میں اپنے فلور لیڈروں کی میٹنگ کرے گا۔ اس میٹنگ کا مقصد ایوان کے اجلاس کے لیے حکمت عملی پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔ واضح رہے کہ پیر کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو ہنگامہ آرائی اور ایوان میں اپوزیشن لیڈروں کی جانب سے بولنے کے مطالبات کے درمیان 22 جولائی کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ان رکاوٹوں پر غم و غصہ کا اظہار کیا اور اراکین سے بحث و مباحثہ کی اجازت دینے کی اپیل کی۔ اوم برلا نے کہا کہ ’’یہ سوال کا وقت ہے اور حکومت ہر معاملے پر بحث کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایوان کو چلنا چاہیے اور ہر معاملے پر اصولوں اور طریقہ کار کے مطابق بحث ہونی چاہیے۔‘‘ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی کہا ہے کہ حکومت کسی بھی معاملے پر بات چیت کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

حکومت بحث کے لیے تیار ہے: کرن رجیجو

وہیں پہلگام حملے اور آپریشن سندور پر بحث کے مطالبے پر اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے نعرے لگانے پر مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ ’’بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ ڈھائی بجے منعقد ہوگی جس میں بحث ہونے والے ایجنڈے پر فیصلہ کیا جائے گا۔ حکومت بحث کے لیے تیار ہے۔‘‘

ایوان کے التوا کے بعد لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ ’’سوال یہ ہے کہ وزیر دفاع کو ایوان میں بولنے کی اجازت ہے، لیکن مجھ سمیت اپوزیشن کے اراکین کوبولنے کی اجازت نہیں ہے۔ کنونشن میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے لوگ بول سکتے ہیں تو ہمیں بھی بولنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔‘‘ وہیں کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’اگر وہ بحث کے لیے تیار ہیں تو انھیں اپوزیشن لیڈر کو بولنے دینا چاہیے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read